بلال فرقانی
سرینگر//ایک ایسے وقت جب جموںوکشمیر میں شراب بندی پر جاری بحث ایک بڑے سیاسی تنازع میں تبدیل ہوگئی ہے اور حکومت شراب پر مکمل پابندی کویہ کہہ کر ناقابل عمل قرار دےرہی ہے کہ جموںوکشمیر ٹورسٹ سٹیٹ ہے اور مکمل پابندی سے شراب کی کالا بازی کا خدشہ ہے تاہم اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ دراصل حکومت شراب پر پابندی لگا نا ہی نہیں چاہتی ہے کیوں کہ مقامی ٹیکس آمدنی کا ایک بڑا حصہ شراب کی کمائی سے آتا ہے جس کی طرف کسی حد تک اشار ہ دو روز قبل نیشنل کانفرنس کے سربراہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے یہ کہہ کر دیا کہ اگر مرکز معائوضہ دے تو ہم پابندی لگا نے کیلئے تیار ہیں۔گویافاروق عبداللہ بھی مانتے ہیں کہ شراب سے آمدن ہوتی ہے اور اگر مرکز اس کا بھگتان کرے تو پابندی ممکن ہے ۔ سرکاری اعداد و شمارکے مطابق جموں و کشمیر میں گزشتہ 3مالی برسوں کے دوران شراب خانوں سے حکومت کو 3,450کروڑ روپے سے زائد کی آمدنی حاصل ہوئی ہےجبکہ شراب خانوں کی نیلامی سے دو برسوں میں 2152کروڑ روپے سرکاری خزانے میں جمع ہوگئے۔ مالی سال 2025-26میں جموں وکشمیر کی اپنی کل ٹیکس آمدن تقریباً 21,550کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی۔ اہم ٹیکس ذرائع میںسٹیٹ جی ایس ٹی 14,000کروڑ روپے، سیلز ٹیکس / ویٹ 1,995کروڑ روپے،سٹیٹ ایکسائز 2,990 کروڑ روپے اوراسٹامپ ڈیوٹی و رجسٹریشن فیس900کروڑ روپے تھے جبکہ جموں وکشمیر کا مجموعی بجٹ 2025-26کیلئے تقریباً 1.12لاکھ کروڑ روپے رکھا گیا تھا۔جب اتنا ٹیکس حاصل نہ ہوا تو نظرثانی شدہ اندازوں حکومت تقریباً 20,590کروڑ روپے ہی حاصل کر سکی اور یوں تقریباً 960 کروڑ روپے کی کمی ہوئی۔جو ٹیکس وصولی ہوئی ،اُس میںایس جی ایس ٹی مد میں11500کروڑ روپے،ویٹ ،سیلز ٹیکس مد میں2500کروڑ روپے،سٹیٹ ایکسائز ٹیکس یا شراب کی مد میں2990کروڑ روپے اوراسٹامپ ڈیوٹی و رجسٹریشن فیس کی مد میں1900کروڑ روپے حاصل ہوئے۔اسی طرح مالی سال2026-27کیلئے20ہزار700کروڑ روپے کی کل تخمینہ آمدن میں سے سٹیٹ ایکسائز یعنی شراب سے آمدن کی مد میں 3000کروڑ آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ سیلز ٹیکس ،ویٹ کی مد میں21سو کروڑ،سٹیٹ جی ایس ٹی کی مد میں13000کروڑ اور اسٹامپ ڈیوٹی و رجسٹریشن فیس کی مد میں11سو کروڑ کی آمد ن کا تخمینہ لگایاگیا ہے۔جموں وکشمیر کی مالی سال 2026-27میں مجموعی اپنی ٹیکس آمدن تقریباً 20,700کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ غیر ٹیکس آمدن ملا کر حکومت کی اپنی کل آمدن تقریباً 31,800کروڑ روپے بنتی ہے۔ جموں وکشمیر کے کل بجٹ کا حجم تقریباً 1.13 لاکھ کروڑ روپے رکھا گیا ہے جبکہ مرکز کی گرانٹس اور امداد کا حصہ تقریباً 58,218کروڑ روپے ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہناہے کہ مرکزی گرانٹس پر منحصر جموںوکشمیر شراب سے حاصل ہونے والی آمدن سے محرو م ہونے کا متحمل نہیںہوسکتا ہے کیونکہ یہاں آمدن کے ذرائع محدود ہیں ۔
3برسوں کا لیکھا جوکھا
شراب کی آمدن کا بڑا حصہ جموں خطہ سے آتا ہے اور جموں خطے میں ضلع جموں سب سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے والا ضلع رہا جہاں 2022-23میں51,262.41لاکھ روپے،2023-24میں50,826.31لاکھ روپےاور2024-25میں 52,292.83 لاکھ روپے کی آمدنی درج کی گئی۔ ضلع میں اس وقت 153شراب خانے اور 97بار کام کررہے ہیں۔کٹھوعہ میں 2022-23کے دوران 12,367.06لاکھ روپے، 2023-24میں 12,217.17لاکھ روپے اور 2024-25میں 12,694.98لاکھ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی۔ سانبہ ضلع میں آمدنی 8,229.14لاکھ روپے سے بڑھ کر 10,299.42لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔ادھمپور میں شراب سے حاصل ہونے والی آمدنی 10,777لاکھ روپے سے بڑھ کر 12,987.50لاکھ روپے تک جا پہنچی، جبکہ ریاسی میں یہ آمدنی 3,125لاکھ روپے سے بڑھ کر 3,450.50لاکھ روپے تک ریکارڈ کی گئی۔ڈوڈہ میں آمدنی 2,545.01لاکھ روپے سے 2,685.29لاکھ روپے تک رہی، جبکہ کشتواڑ میں آمدنی 1,216.76لاکھ روپے سے بڑھ کر 1,964.09لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔ رام بن میں تین برسوں کے دوران آمدن بالترتیب 2,722.86لاکھ روپے، 2,545.58 لاکھ روپے اور 2,702.16لاکھ روپے ریکارڈ کی گئی۔راجوری ضلع میں 2024-25کے دوران غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا جوآمدنی بڑھ کر 15,232.04لاکھ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ پونچھ میں آمدنی 2,254.91لاکھ روپے سے گھٹ کر 1,889.92لاکھ روپے ریکارڈ کی گئی۔ 2023–24 میں ایکسائز آمدن 541.64کروڑ روپے جبکہ 2024–25 میں 541.30 کروڑ روپے رہی۔ موجودہ مالی سال میں جنوری 2026 تک آمدن 435.22 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی ۔کشمیر خطے کے اعداد و شمار کے مطابق ضلع سرینگر شراب سے سب سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے والا ضلع رہا۔ سرینگر میں 20022-23کے دوران 3,086.77لاکھ روپے کی آمدنی ہوئی، جو 2023-24میں بڑھ کر 7,360.17لاکھ روپے اور 2024-25میں مزید بڑھ کر 7,632.90لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔ ضلع میں اس وقت 7شراب خانے اور 4بار کام کررہے ہیں۔ضلع اننت ناگ میں 2022-23کے دوران 162.50لاکھ روپے کی آمدنی درج کی گئی، تاہم اگلے دو برسوں میں اس میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا۔ 2023-24میں آمدنی 1,403.50لاکھ روپے جبکہ 2024-25میں 1,999.95لاکھ روپے ریکارڈ کی گئی۔ ضلع میں صرف2شراب کی دکانیں موجود ہیں ۔شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں 2022-23کے دوران 418.07لاکھ روپے کی آمدنی ہوئی، جو 2023-24میں بڑھ کر 1,147.23لاکھ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ 2024-25میں 1,135.84لاکھ روپے ریکارڈ کئے گئے۔ضلع گاندربل میں شراب سے حاصل ہونے والی آمدنی 2022-23میں 170.14لاکھ روپے تھی، جو 2023-24میں بڑھ کر 223.44لاکھ روپے اور 2024-25میں 319.69لاکھ روپے تک جا پہنچی۔کپواڑہ ضلع میں 2022-23کے دوران کوئی شراب کی دکان موجود نہیں تھی، تاہم 2023-24میں 415.66لاکھ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی، جو 2024-25میں بڑھ کر 442.96لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔ پلوامہ، شوپیان، بانڈی پورہ، بڈگام اور کولگام اضلاع میں گزشتہ تین مالی برسوں کے دوران کوئی شراب کی شاپ موجود تھی۔اعداد و شمار کے مطابق 2025–26 میںجنوری تک جموں و کشمیر میں شراب کی فروخت 5.63 کروڑ بوتلوں سے تجاوز کر گئی ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں معمولی کمی ظاہر کرتی ہے۔ تاہم مجموعی طور پر شراب کی کھپت گزشتہ برسوں میں مسلسل بلند سطح پر رہی ہے۔رپورٹوں کے مطابق علاقائی سطح پر آمدن میں بڑا فرق دیکھا گیا ہے، جہاں جموں ڈویژن نے 2سال میں تقریباً 1,96,830 لاکھ روپے کی آمدن حاصل کی، جبکہ کشمیر کا حصہ 18,448لاکھ روپے رہا۔ سری نگر میں آمدن 6,557لاکھ روپے تک پہنچی جبکہ جموں ضلع ہر سال 50,000 لاکھ روپے سے زائد آمدن دیتا رہا ہے۔