سرکاری ڈسپنسریاں اور چھوٹے طبی مراکز

بلا شبہ غریب اور نادار افراد پر مشتمل وادیٔ کشمیر کی کثیر آبادی کے لئے سرکاری ڈسپنسریاں اور چھوٹے چھوٹے سرکاری طبی مراکز علاج و معالجہ کی واحد اُمید اور سہار ا ہیں۔شہر کے گنجان آباد علاقے ہوں ، قصبے ہوں یا دور دراز علاقہ جات ،وہاں پر قائم سرکاری صحت مراکز کا اصل مقصدہی یہی ہےکہ لوگوں کو بروقت ابتدائی طبی سہولت فراہم ہو۔اس لئے جب بھی ان علاقہ جات میں کوئی فرد بیمار پڑتا ہے یا کسی چھوٹے موٹے حادثے کا شکار ہوجاتا ہے تو سب سے پہلے وہ انہی طبی مراکز کا رُخ اختیار کرلیتا ہے تاکہ اُسے فوری طور پر طبی سہولت مہیا ہوسکے۔لیکن ان طبی مراکز کے متعلق جہاں تک عوامی حلقوں کا کہنا ہے تو جس مقصد کے تحت ان طبی مراکز کا وجود عمل میں لایا گیا تھا ،وہ یکسر فوت ہوچکا ہے۔اگرچہ پچھلے تین چار عشروں کے دوران یہاں کی حکومتوں کی طرف سے ان طبی مراکز کے قیام میں کافی توسیع ہوتی رہی ،مگر مجموعی طور پر ان کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا ہے۔

 

یہ طبی مراکز ،جن میں بعض بڑی بڑی ڈسپنسریاں بھی شامل ہیں،میں ناتجربہ کار و غیر ذمہ دار عملے،ادویات و دوسرے طبی اوزار کی کمی اور لوٹ کھسوٹ کے مراکز میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ان طبی مراکز کے قیام سے جہاں بیشتر لوگوں کے لئے سرکاری ملازمتیں فراہم ہوئیں وہیں ان لوگوں کے لئے یہ طبی ادارے سونے کی کھان ثابت ہوتے رہےاور عوام الناس خصوصاً غریب،لاچار اور مستحق مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے نام پر یہ لوگ مفت میں لکھ پتی اور کروڑ پتی بن گئے ہیں۔بیشترسرکاری ڈسپنسریوں اور چھوٹے طبی مراکز پر تعینات سرکاری طبی عملہ جہاں زبردست بد دیانتی میں مبتلا ہوچکا ہے وہیں بعض نیم طبی عملے نے چوروں کا روپ اختیار کرکے ان اداروں کی اصل حقیقت ہی مسخ کرکے رکھ دی ہے۔دیہی علاقوں کے چھوٹے چھوٹے صحت مراکز سے لے کر سرینگر شہر کی بعض اہم ڈسپنسریوں اور ہسپتالوں تک کے بارے میں یہ شکایت عام ہوچکی ہے کہ غریب اور مستحق مریضوں کے لئے انتہائی اہم اور لازمی طبی سہولت کی فراہمی کے نام پر ان اداروں کو کاروباری اڈوں اور عیش کوشی کےٹھکانوں میں تبدیل کرکے رکھدیا گیا ہے۔ مریضوں کو ان اداروں سے دوائی کی عدم دستیابی تو معمول بن چکی ہے ،حالانکہ یہ بات بالکل طے ہے کہ ان سرکاری ڈسپنسریوں اور چھوٹے طبی مراکز میں عام طور پر ایسے ہی لوگ علاج و معالجہ کے لئے جاتے ہیں جو مالی استطاعت نہ ہونے کے باعث پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج نہیں کراسکتے ہیں۔ ان سرکاری طبی اداروں سے مستحق اور غریب مریضوں کا کوئی پُرسان حال نہیں ہوتا، البتہ جو کچھ حاصل ہوتا ہے وہ جونیئر اور ناتجربہ کار طبی عملے کے ناقص مشورے ، بازار سے ادویات لانے اور ٹیسٹ کروانے کی لسٹ اور نیم طبی عملے کا دھونس ،دبائو ،اُلٹی سیدھی باتیں اور باہر جانے کا راستہ۔اگرچہ اس ساری صورت حال سے سرکاری طبی اداروں کے اعلیٰ عہدیدار ،بڑے بڑے ڈاکٹر ،اور میڈیکل آفیسر بھی واقف ہیں لیکن پھربھی مصلحتوں اور مفادات کے تحت اندھے ،بہرے اور گونگے بن بیٹھے ہیں۔جس کے نتیجے میں جہاں سرکاری طبی اداروں خصوصاً بڑی ڈسپنسریوں اور چھوٹے چھوٹے صحت مراکز سے وابستہ طبی اور نیم طبی عملہ زبردست بد نظمی اور غیر ذمہ داری کا شکار ہوچکا ہے وہیں ان طبی مراکز میں مریضوں کے لئے مخصوص ادویات اور دوسرا طبی سامان بھی کھلم کھلا لوٹ رہا ہے،اور اس طرح حکومت اور محکمہ صحت کی طرف سے ان اداروں کو ماہانہ جو لاکھوں کروڑوں مالیت کے ادویات اور دوسرا طبی سامان فراہم ہورہا ہے ،اس کا اَسی فیصد حصہ ان مراکز میں کام کرنے والے سرکاری عملے کی نذر ہورہا ہےاور غریب و لاچار مریض بَس دیکھتا رہ جاتا ہے۔یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں ان طبی مراکزکو جہاں محکمہ صحت کی طرف سے وسیع پیمانے پر ادویات اور دوسرا سازو سامان فراہم ہورہا ہے وہیںان طبی اداروں کی کارکردگی بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے۔جوکہ یقیناً ایک قابل تشویش امر ہےاور جو رپورٹیں ان صحت مراکز کے بارے میں شائع ہوتی رہتی ہیں ،وہ ظاہر کرتی ہیں کہ ان میں سدھار لانے کی اشد ضرورت ہے۔عوام کو علاج و معالجہ کے لئے بہتر سہولتیں فراہم کرنا ہر اچھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے ،اس لئے سرکاری ہسپتالوں ،بڑی بڑی ڈسپنسریوں اور چھوٹے چھوٹے طبی مراکز کے حالات بہتر بنانے اور ان میں دَر آچکی بے قاعدگیوں اور بد عنوانیوں کو دور کرنا لازمی ہے۔