سرنکوٹ میںاستاد کو ’ملی ٹینٹ ‘کہنے پر خاتون آفیسر کے نام نوٹس جاری

جموں//ضلع پونچھ کے سب ڈویڑن سرنکوٹ کی ایک خاتون زونل ایجوکیشن پلاننگ افسر (زیڈ ای پی او) نے ایک سکول کے معائنے کے دوران مبینہ طور ایک داڑھی والے استاد کو 'بہت بڑا جنگجو' کہا ہے اور علاقے میں واقع ایک مسجد کی 'توہین' کی ہے۔دریں اثنا جہاں سب ضلع مجسٹریٹ سرنکوٹ سلیم احمد نے مذکورہ افسر کے نام وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے وہیں مقامی امام مفتی فاروق احمد مصباحی نے اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔یہ مبینہ واقعہ سرنکوٹ کے دھندک علاقے میں واقع یاسین پبلک سکول میں یکم اپریل کو رونما ہوا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مذکورہ افسر جس کی شناخت کملیش کماری کے بطور کی گئی ہے، ایک سکول کے معائنے کے دوران ایک استاد کو کہا کہ’یہ سب سے بڑا ملی ٹینٹ ‘ہے اس کی شکل دیکھو' کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔مقامی امام مفتی فاروق احمد مصباحی نے اس استاد کی شناخت عاشق حسین کے بطور کی ہے جس نے داڑھی رکھی ہوئی ہے۔انہوں نے مذکورہ افسر کو تبدیل کرنے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ دھندک کانی کھوڑی علاقے میں جہاں ایک درسگاہ بھی ہے مسجد بھی اور یاسین انگلش سکول بھی ہے، زیڈ ای پی او سرنکوٹ نے اس سکول کا معائینہ کرنے کے دوران ایک استاد عاشق حسین کو داڑھی رکھنے پر بہت بڑا ملی ٹینٹ کہا اور باقی لوگوں کے ساتھ بھی غلط رویہ روا رکھا'۔انہوں نے کہا: 'اگر داڑھی رکھنے والا ملی ٹینٹ ہوتا ہے تو ملک کے وزیر اعظم بھی نہیں بچیں گے'۔موصوف مفتی نے کہا کہ مذکورہ زیڈ ای پی او مسجد میں جوتے پہن کر ہی داخل ہوئی جو ایک مذہب کی توہین ہے اور ناقابل برداشت ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلع پونچھ میں ہمیشہ آپسی بھائی چارہ رہا ہے اور تمام مذہبوں کے لوگ آپس میں مل جل کر رہتے ہیں لیکن ایسے عناصر اس میں رخنہ ڈال سکتے ہیں۔ان کا مطالبہ تھا کہ اس افسر کو فوری طور تبدیل کیا جائے اور اس کے خلاف قانونی کارروئی بھی کی جائے۔ موصوف نے کہا کہ اس واقعے کی ویڈیوز بھی وائرل ہوئی ہیں۔دریں اثنا سب ضلع مجسٹریٹ سرنکوٹ سلیم احمد نے مذکورہ افسر کے نام  وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے اور ان سے دو دنوں کے اندر جواب طلب کیا ہے۔انہوں نے زیڈ ای پی او کے نام جاری نوٹس میں کہا ہے: 'ایک سرکاری افسر سے جان بوجھ کر مذہبی اعتقادات کی توہین کر کے کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔ آپ کو ایک مخصوص شںخص کے جذبات کو مجروح کرنے کے لئے جان بوجھ کر ایسے الفاظ بولتے ہوئے سنا جا سکتا ہے'۔نوٹس میں کہا گیا ہے: 'آپ کی حرکت سے عوام میں غم و غصے اور نفرت و دشمنی کی لہر دوڑ گئی ہے'۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ ویڈیو بھی وائرل ہوا ہے کہ یکم اپریل کو یاسین پبلک اسکول کے معائنے کے دوران آپ مسجد میں جوتے نکالے بغیر ہی داخل ہوئی ہیں اور اس دورے کے دوران آپ نے فیس ماسک بھی نہیں پہنا تھا جو کووڈ گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی ہے'۔
 

غیر ذمہ درانہ بیان کی شدید مذمت 

جاوید اقبال 
مینڈھر //سرنکوٹ سب ڈویژن میں ایک ٹیچر کو زیڈ ای پی او کی جانب سے ملی ٹینٹ کہنے کے واقعہ کی سب ڈویژن مینڈھر اور سرنکوٹ کے معززین نے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس سلسلہ میں سنجیدہ نوٹس لیا جائے ۔یہاں جاری ایک مشترکہ بیان میں سرپنچ خادم حسین کٹاریہ ،سرپنچ سکندر نورانی ،محمد رمضانی ،محمد شریف ،لعل حسین اور سرپنچ محمد خان کیساتھ ساتھ اخلاق خان ،دلشاد قادری ،یوتھ لیڈر ظہیر خان ،خرشید احمد ،معروف مغل ،صوفیاز خان کے علاوہ کئی معززین نے زیڈ ای پی او کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کی نفرت پھیلانے والے آفیسران کو جلدازجلد نوکری سے برطرف کیا جائے تاکہ سماجی میں انتشار کو روکا جاسکے ۔انہوں نے کہاکہ شعبہ تعلیم سے وابستہ آفیسر سماجی میں بہتری کیلئے کام کرتے ہیں تاہم زیڈ ای پی او سرنکو ٹ نے جان بوجھ کر سماج میں انتشار پھیلانے کی کوشش کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر مذکورہ آفیسر کو جلدازجلد معطل نہیں کیا گیا تو اس سلسلہ میں ایک بڑا احتجاج شروع کر دیا جائے گا ۔
 

مساجد کی بے حرمتی برداشت نہیں :عوا م 

بختیار کاظمی 
سرنکوٹ //گزشتہ دنوں سرنکوٹ کے یاسین پبلک سکول میں پیش آئے واقعہ اور ایک آفیسر کی جانب سے مسجد کی کی گئی بے حرمتی کی کی مکینوںنے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ پُر امن سماج میںآفیسران کی جانب سے اس طرح کے اقدمات کو کبھی برداشت نہیں کیاجاسکتا ۔انہوں نے کہاکہ ایک ذمہ دار پوزیشن پر تعینات آفیسران اگر سماج میں بہتری کے بجائے انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں تو سماج میں آپسی رشتوں پر کس قدر کے اثرات مرتب ہونگے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔مکینوں نے کہاکہ ڈاڑھی رکھنے کے سلسلہ میں استاد کو ملی ٹینٹ کہنا اور مسجد میں بغیر جوتے کھولے ہوئے داخل ہونے سے عام لوگوں کے دلوں کو ٹھیس پہنچی ہے ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ ملوث آفیسر کیخلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ سماج میں انتشار کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے ۔