سرینگر// پولیس نے سرحد پار میڈیکل و دیگر پیشہ وارانہ کالجوں میں نشستوں کو مبینہ طور فروخت کرنے کی پاداش میں علیحدگی پسند لیڈر ظفر اکبر بٹ اور ایک خاتون سمیت4 افراد کی گرفتاری عمل میں لائی ہے۔جموں و کشمیر پولیس کے کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر (سی آئی کے) ونگ نے بدھ کو کہا کہ یہ گرفتاریاں گزشتہ سال جولائی میں حریت لیڈروں کی جانب سے ان نشستوں کو مبینہ طور پر فروخت کرنے اور اس رقم کا ایک حصہ جنگجویت کو ابھارنے میں خرچ کرنے کے سلسلے میں درج مقدمے میں عمل میں لائی گئی ہیں۔’سی آئی کے‘ نے اپنے بیان میں ان گرفتار افراد کی شناخت ظفر اکبر بٹ چیئرمین سالویشن موومنٹ ، فاطمہ شاہاہلیہ نثار احمد شاہ ساکن پٹن حال نندریشی کالونی بمنہ ،کپواڑہ میں کلپورہ سالکوٹ کے محمد عبداللہ شاہ ، سبزار احمد شیخ ولد بشیر احمد شیخ ساکن شانگس نوگام کے بطور کی ہے۔ اس فہرست میں پاکستان میں مقیم ظفر اکبر بٹ کے بھائی الطاف احمد اور پاکستان میں ہی مقیم منظور احمد شاہ،جو عبداللہ شاہ کا بھائی ہے، شامل ہیں۔سی آئی کے نے کہا کہ دو مزید ملزمان جن کے خلاف ’’کافی شواہد موجود ہیں گرفتاری سے بچ رہے ہیں اور ان دونوں کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا‘‘۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر میں دو ملزمان ملوث ہیں ، جو 1990 کی دہائی کے اوائل میں غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود کی تربیت کے لیے پاکستان گئے ہوئے تھے اور دوسری طرف آباد ہوئے تھے جبکہ’’آئی ایس آئی‘‘ کی ایماء پر حریت سے منسلک افراد کے لیے اس زمرے کے تحت داخلے سے متعلقہ معاملات کو سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سی آئی کے بیان میں کہا گیا کہ یہ افراد ’’جنگجویت اور دہشت گردی‘‘ سے متعلق دیگر سرگرمیوں میں رقومات کے لین دین کے مذموم منصوبے کا حصہ تھے۔ پولیس نے کہا ہے کہ سرینگر پولیس اسٹیشن’ سی آئی کے‘ کو قابل اعتماد ذرائع کے ذریعے معلومات ملی تھیں’’کچھ شرپسند بشمول کچھ حریت لیڈرکچھ تعلیمی کنسلٹنسیوں کے ساتھ رابطے میںتھے اور پاکستان میں ایم بی بی ایس کی نشستیں اور مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں دیگر پیشہ وارانہ کورسز کی نشستیں فروخت کر رہے ہیں۔
سی آئی کے نے کہاکہ گزشتہ سال درج کیس میں جن معلومات کی بنیاد پر تحقیقات شروع کی گئی تھیں، ان میں بتایا گیا تھا کہ خواہش مند یا ممکنہ طالب علموں کے والدین سے جمع کی گئی رقم کم از کم جزوی طور پر دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی حمایت اور فنڈنگ کے لیے مختلف طریقے سے استعمال کی جاتی ہے۔ کیس کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بہت سے معاملات میں ایم بی بی ایس اور دیگر پیشہ ورانہ ڈگری سے متعلق نشستیں ان طالب علموں کو ترجیحی طور پر دی گئی تھیں، جو مارے گئے جنگجوئوں کے قریبی خاندان یا رشتہ دار تھے۔سی آئی کے ،نے کہا کہ ایسے معاملات بھی تھے جہاں انفرادی حریت لیڈروں کو الاٹ کیا گیا کوٹا والدین کوفروخت کیاگیا جو ایم بی بی ایس اور دیگر پیشہ ورانہ ڈگریاں حاصل کرنے کے خواہشمند تھے۔پولیس نے بتایا کہ 2014سے18 20کے درمیان نشستوں سے متعلق 80 سے زائد کیسوں کو زیر غور لایاگیا جس میں طلباء یا ان کے والدین کی جانچ کی گئی۔پولیس نے بتایا کہ اس کے علاوہ ، وادی میں تقریبا ایک درجن مقامات کی تلاشی لی گئی تاکہ پیسے جمع کرنے اور اس کے مزید استعمال کے ثبوت تلاش کیے جا سکیں۔ سی آئی کا کہنا ہے ’’ڈیجیٹل ریکارڈز اور کاغذی رسیدوں کے ساتھ ساتھ بینک لین دین سے متعلق ریکارڈ کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جمع شدہ رقم کا ایک بڑا حصہ ذاتی استعمال کے لیے الگ رکھا گیا تھا۔‘‘
بیان میں کہا گیا کہ یکارڈ میں یہ ظاہر کیا گیا کہ پیسے مختلف طریقے سے ڈالے گئے جو جنگجوئوں اور علیحدگی پسندی سے متعلق پروگراموں اور منصوبوں کی حمایت پرختم ہوئے۔ان کا کہنا تھا’’مثال کے طور پر ، پتھر بازی کو منظم کرنے کے لیے ادائیگی کا بھی سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ایک نشست کی اوسطاً قیمت 10 سے 12 لاکھ کے درمیان ہوتی ہے۔ ’’کچھ معاملات میں ، قیمت حریت لیڈروں کی سفارش پر کم کی گئی تھی، دوسرے لفظوں میں ، حریت لیڈراں کے سیاسی نظریہ پر منحصر تھا جو، خواہش مند طالب علم اور اس کے خاندان کو رعایت دی گئی۔ سی آئی کے،کے مطابق’’دستیاب شواہد کی بنیاد پر ، ایک سر سری اندازے کے مطابق اس میں شامل رقم تقریبا 4 کروڑ روپے سالانہ ہوسکتی ہے ، اس حقیقت کی بنیاد پر کہ انفرادی طور پرحریت لیڈروں کی طرف سے تقسیم کے لیے سالانہ ایم بی بی ایس نشستوں کی تعداد تقریباً 40 ہیں۔‘‘کیس کی مزید تحقیقات جاری ہے۔