سرحدی کشیدگی کاشاخسانہ

مکینوں میں خوف وہراس ،ہندوپاک قائدین پربات چیت سے مسائل سلجھانے پرزور

 
مینڈھر//حالیہ سرحدی کشیدگی کے دوران مینڈھراسمبلی حلقہ کی حدودمیں آنے والے سرحدی سیکٹروں کرشناگھاٹی اوربالاکوٹ میں شدیدگولہ باری کاتبادلہ ہواجس کے نتیجے میں لوگوں کے متعددمکانات کوجزوی نقصان اورکئی مویشی زخمی اورہلاک ہوئے ہیں۔گولہ باری کی وجہ سے لوگوں میں خوف پایاجارہاہے اوروہ بُری طرح سہمے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کرشناگھاٹی اوربالاکوٹ  سرحدی سیکٹروں کے قریب رہنے والے لوگوں نے اپنے مکان چھوڑ کر محفوظ مقام پرمنتقل ہونے کوترجیح دی۔اس سلسلہ میں محمد امین نامی شخص نے کہا کہ لوگوں میں اس قدرخوف ہے کہ وہ رات کا کھانا بھی نہیں کھاسکے ۔انہوں نے کہاکہ حدمتارکہ کے قریب فائرنگ اسقدرتیز تھی کہ لوگ ڈر کے مارے گھروں سے باہر ہی نہیں نکلے ۔جب فائرنگ آٹھ بجے کے بعد رُکی تو لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں جا کر جمع ہو ئے اور ایک ہی جگہ جمع رہے جس کامقصدایک دوسرے کی خبررکھناتھا۔انہوں نے کہاکہ بہت سے لوگ حالات سے گھبراکراپنے رشتہ داروں کے ہاں چلے گئے ہیں ۔انہوں نے مزیدکہاکہ گولہ باری میں کئی مکانوں کی چھتوں اورپانی کی ٹنکیوں کوجزوی نقصان پہنچاہے۔ انہوں نے کہاکہ بہت سی بھیڑبکریاں زخمی اورمتعدددیگرہلاک بھی ہوئی ہیں۔بالاکوٹ اورکرشناگھاٹی علاقہ کے سرحدی مکینوں نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ دونوں ممالک آپس میں بیٹھ کرمسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کریں اور جنگ سے گریزکیاجائے۔اس سلسلہ میں ایس ڈی ایم مینڈھر کا کہنا ہے کہ ہم نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں اور فائلیں مکمل کرنے کے بعد ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ کو معاوضہ کیلئے ارسال کریں گے۔