سرحدی علاقوں میں بنکر بن نہ سکے

 
پونچھ //ضلع پونچھ کے سرحدی علا قوں کی عوام نے انتظامیہ کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے مانگ کی کہ سرحدی علا قوں کے مکینوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے پختہ بنکر تعمیر کئے جائیں ۔مظاہرین نے ہندپاک افواج کے مابین ہونے والی گولہ بھاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ گولہ باری کی زد میں آکر اکثر بے گناہ لوگ لقمہ اجل بن رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ شاہ کیرنی ،قصبہ ،بانڈی چچیاں ،بنوت اور ڈھوکری ودیگر علا قوں میں ہر بار گولہ بھاری سے مقامی لوگوں کا بھاری نقصان ہو تا ہے تاہم ضلع و ریاستی انتظامیہ کی جانب سے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جارہاہے جس کی وجہ سے لوگوں کی زندگیاں درہم برہم ہو رہی ہیںجبکہ بچوں کا تعلیم بُری طرح سے متاثر ہو رہی ہے ۔مظاہرین نے کہاکہ بنکروں کی تعمیر نہ ہونے سے گولی بھاری کے دوران مقامی لوگوں کوکئی گھنٹوں تک اپنے گھروں میں رہنا پڑتا ہے لیکن کچے اور غیر محفوظ گھر ہونے کی وجہ سے ان کو اکثر نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔مظاہرین نے ریاستی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ شاہ پور،کیرنی قصبہ،بانڈی چچیاں اور دیگوار میں ہوئی گولہ باری کی وجہ سے زخمی اور ہلاک ہوئے افراد کو ریڈ کراس کے تحت دی گئی امداد کے بغیر کچھ بھی نہیں دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ بنوت، ڈھوکری، شاہ پور،کیرنی،بانڈی چچیاں، قصبہ اور کئی ایسے علاقے ہیں جہاں پر ابھی تک بینکر نہیں بنائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا بینکر نہ ہونے کی وجہ سے ان علاقوں میں لوگ زخمی ہو رہے ہیں اور کئی لوگ موت کا شکار بھی بن رہے ہیں۔مظاہرین نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی علا قوں میں جلداز جلد بنکر تعمیر کئے جائیں تاکہ عوامی نقصان سے بچا جاسکے ۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں میں پونچھ کے سرحدی علا قوں میں پاکستانی افواج کی جانب سے ہوئی گولہ بھاری کی وجہ سے ایک کمسن بچی لقمہ اجل بن گئی تھی جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے تھے ۔ان علا قوں میں ہو رہی لگا تار گولہ بھاری کی وجہ سے بنکروں کی تعمیر کا کام شروع کرنا بھی مشکل ہو گیاہے ۔