عظمیٰ نیوزسروس
جموں //سچیت گڑھ کے سابق ضلع ترقیاتی کونسل رکن اور کانگریس کے سینئررہنما ترنجیت سنگھ ٹونی نے بدھ کے روز کہا کہ عوامی دباؤ اور محکمہ بجلی کے ساتھ مسلسل پیروی کے نتیجے میں سائی اور ویاس پور کے لیے 6.3ایم وی اے کے ٹرانسفارمر منظور کر لیے گئے ہیں، جس سے سرحدی علاقوں میں طویل عرصے سے بجلی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہزاروں مکینوں کو بڑی راحت ملے گی۔ٹونی نے محکمہ بجلی کے ایگزیکٹو انجینئر (مکینیکل) سریندر کمار کے ہمراہ سائی، ویاس پور، چکروئی، دیون گڑھ اور مگووالی کے سرحدی دیہات کا دورہ کیا اور بجلی کے بڑھتے ہوئے بحران کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر سینکڑوں مقامی افراد جمع ہوئے اور انہوں نے شکایت کی کہ انہیں روزانہ 16 گھنٹے تک بجلی کی طویل بندش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، خاص طور پر دھان کی شجرکاری کے موجودہ سیزن میں۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ٹونی نے کہا کہ موجودہ بجلی کا بنیادی ڈھانچہ بڑھتے ہوئے لوڈ کے باعث ناکافی ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں بار بار خرابی اور غیر یقینی بجلی فراہمی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چیف انجینئر اور سپرنٹنڈنگ انجینئر سے معاملہ اٹھانے کے بعد سائی پاور اسٹیشن پر 6.3ایم وی اے ٹرانسفارمر کی تنصیب کی منظوری مل گئی ہے، جس سے اوورلوڈنگ میں نمایاں کمی آئے گی اور سرحدی دیہات میں بجلی کی فراہمی بہتر ہوگی۔ٹونی نے بتایا کہ ایس ای (مکینیکل) انیل ورما نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ چیف انجینئر سے بات چیت کے بعد نئے ٹرانسفارمر کی تنصیب پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اگرچہ مستقل منصوبے کی تکمیل میں تقریباً تین ماہ لگیں گے، تاہم محکمہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس دوران عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے عارضی انتظامات کیے جائیں گے۔کانگریس رہنما نے سچیت گڑھ میں میران صاحب کی طرز پر ایک مستقل پاورسٹیشن قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔کسانوں کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے ٹونی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ محکمہ بجلی کو ہدایت دیں کہ زرعی سیزن کے دوران تمام خراب ٹرانسفارمروں کو ترجیحی بنیادوں پر بحال کیا جائے۔ انہوں نے زرعی ٹیوب ویلوں اور گھریلو صارفین کے لیے الگ الگ بجلی فیڈرز قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ آبپاشی کا نظام بلا تعطل جاری رہے اور گھریلو صارفین بھی متاثر نہ ہوں۔