سرحدی اضلاع کے38بلاکوں کے باڈر ایریا ڈولپمنٹ فنڈ س کا کیا ہوا ؟

سرینگر//پی ڈی پی ،پی جے پی مخلوط سرکار میں باڈر ا ئریہ ڈولپمنٹ سکیم کے تحت منظور ہوئے ماڈل ولیجز کی تعمیر کا کام کھٹائی میں پڑا ہے جبکہ کئی علاقوں میں اس سکیم کے تحت لاکھوں روپے بھی خرچ کر دئے گئے لیکن اس کا فائدہ ابھی تک عوام کو نظر نہیں آرہا ہے نہ ہی ابھی وہاں سڑکیں تعمیر ہو سکیں، نہ پارکیں بنیں جبکہ دیگر بنیادی ڈھانچہ بھی تعمیر نہ ہو سکا ۔معلوم رہے کہ کپوارہ کے سرحدی علاقوں کیلئے پچھلی سرکار نے ایک اہم اقدامات کے تحت 11 ماڈل ولیجز کو منظوری دے کرلوگوں کو یہ یقین دہانیاں کرائی تھیں کہ انہیں ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی، لیکن تعمیرشروع نہ ہوسکی ۔2016میں محبوبہ مفتی نے سرحدی علاقوں کا دورہ کر کے ماڈل ولیج کا افتتاح بھی کیا اور اُن پر کام بھی شروع ہوا لیکن اچانک یہ کام بند کر دیئے گئے ۔ذرائع نے بتایا کہ ان ماڈل ولیجز کی تعمیر کا مقصد سرحدی اور دور دراز علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانا تھا۔ ماڈل ولیجز میں رولر انفارمیشن سنٹر ،کامن فکیلٹی سنٹر ،بچوں کے کھیلنے کیلئے پارک ،کھیل کود کیلئے میدان ،شاپنگ کمپلیکس ،ڈرینج سسٹم ،دیہی علاقوں کی سڑکیں ،کلوٹ ،انٹری گیٹ ،سولر لائٹس لگانا جیسی اہم ضروریات دستیاب رکھنا لازمی قرار دیا گیا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ کشمیر کے سرحدی علاقوں کے 38بلاک باڈر ائریہ ڈولپمنٹ فنڈ سکیم کے دائرے میں آتے ہیں جن میں کپوارہ میں سب سے زیادہ 24بلاک ، بارہمولہ میں 13اور بڈگام میں کا کھاگ علاقے کا 1بلاک اس سکیم کے زمرے میں آتے ہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ کپوارہ ضلع میں بی اے ڈی پی سکیم کے تحت 11 ماڈل ولیجز کو منظوری ملی تھی ۔ ان میں سے اگرچہ کئی ایک پر پہلے مرحلے میں ہونے والی تعمیرات کیلئے رقومات بھی ملیں لیکن کام کو مکمل کرنے کیلئے باقی کوئی بھی رقم ادا نہیں کی گئی ۔سرحدی قصبہ کیرن کے مڈیاں گائوں میں بھی ایک ماڈل ولیج کی تعمیر شروع کی گئی تھی لیکن ایک ہلی پیڈ تعمیر کرنے کے بعد اس کا کام گذشتہ 3برسوں سے رکا پڑا ہے ۔ کرناہ میں اس سکیم کے تحت گبرہ ، ٹاڈ اور پنجتارہ گائوں کو ماڈل وکلسٹر ولیج کے دائرے میں لایا گیا تھا۔ڈائریکٹر بی اے ڈی پی ترسیم کمار نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کچھ روز قبل ہی ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھالا ہے اوروہ تفصیلات دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔محکمہ دیہی ترقی کے ڈائریکٹر قاضی سرور نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پچھلے سال تک اس کا پیسہ واگزار نہ ہونے کی صورت میں محکمہ نے کچھ ایک ماڈل ولیجوں کا کام 14ایف سی سکیم کے تحت منظور کیا تھا جس کا کام ہوا ہے ۔