سرحدوں کے دفاع میں بی ایس ایف کا رول ناقابل فراموش

 جموں// بی ایس ایف کے 626 ریکروٹس نے ہفتہ کو جموں و کشمیر کے ادھم پور ضلع میں سبسڈیری ٹریننگ سنٹر (ایس ٹی سی) میں تصدیق اور پاسنگ آؤٹ پریڈ میں قوم کی خدمت کا حلف لیا۔ یہ ایک پندرہ دن کے اندر ایس ٹی سی میں بی ایس ایف کی دوسری پاسنگ آؤٹ پریڈ ہے۔ 20 مارچ کو مرکز سے 636 امیدوار پاس ہوئے اور پریڈ کی صدارت لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کی۔جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ، جو ہفتہ کو تقریب کے مہمان خصوصی تھے، نے بھرتی ہونے والوں کو ان کی دو سالہ طویل تربیت مکمل کرنے پر مبارکباد دی۔انہوں نے کہا کہ انہیں بی ایس ایف کے ساتھ اپنا کیریئر شروع کرنے پر فخر ہے، جسے ملک کی پہلی دفاعی لائن سمجھا جاتا ہے، تقریباً 34 سال قبل جب وہ شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں تعینات تھے۔ان کا کہناتھا’’"وہ ایک بہت مشکل دور تھا (1990 کی دہائی) جب کپواڑہ عسکریت پسندی کا دروازہ بن گیا جس میں ملی ٹینٹوں کے بڑے گروپ سرحد پار گئے اور تربیت کے بعد واپس آئے‘‘۔سنگھ نے کہا "ہم نے اچانک خود کو ایک ایسی صورتحال میں پایا، جس کے لیے میری رائے میں ہم تیار نہیں تھے"۔تاہم پولیس سربراہ نے کہا کہ یہ 1980 کی دہائی کے آخر اور 1990 کی دہائی کے اوائل میں بی ایس ایف کے افسروں اور اہلکاروں کی قربانی، لگن تھی جس کی وجہ سے سابقہ ریاست میں سیکورٹی کی مجموعی صورتحال میں "قابل ذکر بہتری" آئی تھی۔انہوں نے سرحدوں کو محفوظ بنانے اور جموں و کشمیر میں ملی ٹینٹوں، شمال مشرق میں باغیوں اور وسطی ہندوستان میں ماؤنوازوں سے لڑنے کے لیے بی ایس ایف کی ستائش کی۔انہوں نے کہا کہ "آج آپ کی زندگی کا ایک سنہری لمحہ ہے اور آپ نے جو تربیت حاصل کی ہے وہ آپ کو کسی بھی چیلنج پر قابو پانے میں مدد دے گی۔"ڈی جی پی نے بھرتی ہونے والوں کے مستقبل کی تشکیل میں ایس ٹی سی کے افسران اور تربیتی عملے کے کردار کی بھی تعریف کی۔ان کا کہناتھا"بنیادی تربیت آپ کے کیریئر کی بنیاد ہے۔ آپ کو کھلے ذہن کے ساتھ نئی چیزیں سیکھنے کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے"۔ انہوں نے ان سے کہا کہ وہ لوگوں کے انسانی حقوق کا احترام کریں جیسا کہ تربیتی پروگرام میں سکھایا گیا ہے۔جب کہ ڈی جی پی نے تسلیم کیا کہ تربیت کے ماحول اور سروس کے دوران انہیں درپیش چیلنجز میں فرق ہوگا، انہوں نے کہا کہ معیاری تربیت انہیں کبھی مایوس نہیں ہونے دے گی۔