سرحدوں کی حفاظت کی صلاحیت پر مکمل یقین

جموں//سرحدی حفاظتی فورس(بی ایس ایف) نے کہا ہے کہ ہمیں ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے کیلئے اپنی صلاحیت اور خلوص پر مبنی جذبہ پر مکمل بھروسہ ہے ۔ ڈائریکٹر جنرل ایس ایس دیسوال نے جموںمیں پریس کانفرنس کے دوران  بتایاکہ وقتا فوقتاًہم سرحدی صورت حال اور دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نشہ آور ادویات اور ہتھیاروں کو ایئر ڈراپ اور اسمگل کرنے کی بہت کوششیں کی گئیں لیکن چوکس سیکورٹی فورسز نے دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔تاہم انہوں نے کہاکہ ڈرون کا خطرہ ایک چیلنج ہے۔انہوں نے کہاکہ ہماری سیکورٹی فورسز نے ان میں سے بیشتر کا پتہ لگا لیا ہے اور اسی کے مطابق ان سے نمٹا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نے کہاکہ آنے والے دنوں میں ، تکنیکی طور پر ہم اس سے زیادہ موثر انداز میں نمٹ سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس مسئلے (ڈرون کے خطرے) کے حوالے سے انتہائی ترقی یافتہ مرحلے پر ہیں۔بی ایس ایف سربراہ سے جب پوچھا گیا کہ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد ہندوستان کی سرحدوں پر کیا اثر پڑتا ہے ، تو انہوں نے جواب دیاکہ صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ پڑوسی ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ان کا اندرونی معاملہ ہے لیکن ہم ہر صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ہر ممکنہ نتائج کیلئے تیار ہیں۔ دیسوال نے کہاکہ جہاں تک جنگ بندی معاہدے کا تعلق ہے ، ہماری طرف سے کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے اور ہم جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے دن سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں اور اچھے ارادوں کے ساتھ اسی طرح جاری رکھیں گے۔لیزر باڑ لگانے پر دیسوال نے کہا کہ ہندوستانی سرحدوں پر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ (سی آئی بی ایم ایس) کا حصہ ، دو پائلٹ منصوبے جموں و کشمیر میں شروع کئے گئے اور وہ زیر عمل ہیں۔انہوں نے کہاکہ کب ، کہاں اور کس چیز کی ضرورت ہوتی ہے ، اس کے مزید اضافے کیلئے باقاعدہ بنیاد پر بات کی جاتی ہے۔