سرحدوں پر کشیدگی کے معاملات | 26اپریل سے فوجی کمانڈروں کی5 روزہ کانفرنس

نئی دہلی//جموں وکشمیرکی اندرونی وسرحدی صورتحال نیز چین وپاکستان کیساتھ طے شدہ امن معاہدوں کی عمل آوری کاجائزہ لینے کیلئے رواں ماہ کے آخری ہفتے میں فوج کے اعلیٰ کمانڈروں کی ایک5روزہ کانفرنس منعقد ہورہی ہے ۔ جے کے این ایس کے مطابق ایک میڈیارپورٹ میں ذرائع کاحوالہ دیتے ہوئے لکھاگیا ہے کہ مشرقی لداخ سے ہندوچین افواج کی دستبرداری اورواپسی نیز پاکستان کیساتھ حالیہ امن معاہدے کاجائزہ لینے کیلئے26اپریل سے فوج کے اعلیٰ کمانڈروں کی ایک پانچ روزہ کانفرنس منعقد ہورہی ہے ۔اس کانفرنس کے دوران فوج کے اعلیٰ کمانڈرچین اورپاکستان کیساتھ لگنے والی سبھی سرحدوں کی تازہ ترین صورتحال کاجائزہ لینے کیساتھ ساتھ اس بات پربھی غوروخوض کریں گے کہ دونوں ہمسایہ ملکوں کیساتھ طے شدہ امن معاہدوںکوکیسے آگے بڑھایاجائے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق 26سے30اپریل تک ہونے والی اس کانفرنس کے دوران فوج کے اعلیٰ کمانڈرجموں وکشمیرمیں حدمتارکہ اورلداخ کی حقیقی کنٹرول کی صورتحال کے علاوہ کشمیر کے اندر درپیش سیکورٹی چیلنجوں کابھی تفصیلی جائزہ لیں گے ۔اس پانچ روزہ کانفرنس کے دوران فوج کے اعلیٰ کمانڈرپاکستان کیساتھ جنگ  بندی معاہدے کی پاسداری سے متعلق گزشتہ ماہ طے پائے گئے سمجھوتے کیساتھ ساتھ کشمیروادی کی اندرونی سیکورٹی صورتحال کوبھی زیرغورلائیں گے ۔مشرقی لداخ میں حقیقی لائن آف کنٹرول پرچینی افواج کیساتھ کئی مہینوں تک جاری رہنے والی جنگ جیسی صورتحال کااحاطہ کرنے کیساتھ  اعلیٰ فوجی کمانڈرچین کی جانب سے آئندہ پیداکئے جانے والے ممکنہ سیکورٹی چیلنجوں کے بارے میں بھی صلاح مشورہ کریں گے جبکہ فوجی کمانڈروںکی اس پانچ روزہ کانفرنس کے دوران چینی فوج کیساتھ طے پائے گئے امن معاہدے کی عمل آوری اورمشرقی لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن کے نزدیک دونوںملکوں کی جانب سے تعینات کی گئی افواج کی واپسی اوردستبرداری کوبھی زیرغورلایاجارہاہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق رواں ماہ کے آخری ہفتے میں ہونے والی فوجی کمانڈروں کی اس اہم کانفرنس کے دوران چین اورپاکستان کیساتھ لگنے والی سرحدوں پر فوجی دستوں کی تعیناتی کامعاملہ بھی زیرغورلایاجائیگا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مشرقی لداخ میں حقیقی لائن آف کنٹرول پربھارت اورچین کی فوجوں کے درمیان کئی ماہ تک جاری رہنے والی ٹکرائو جیسی صورتحال پرقابو پانے کیلئے دونوں ملکوں کے اعلیٰ فوجی کمانڈروںکے درمیان معاہدہ طے پانے کے کچھ ماہ بعدبھارت اورپاکستان کی افواج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان اچانک ہاٹ لائن پررابطہ ہوا ،اوردونوں ڈی جی ایم اوئوز نے جموں وکشمیرمیں لائن آف کنٹرول پر سال 2003میں طے پائے گئے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کئے جانے سے متعلق ایک دوطرفہ سمجھوتے پراتفاق کیا ،اورتب سے ایل ائوسی پرامن قائم ہے جبکہ فوج کے سربراہ جنرل منوج مکند نروانے ،نے گزشتہ دنوں ایل ائوسی پرامن معاہدے پرعمل درآمدہونے کااعتراف کرتے ہوئے کہاکہ دوطرفہ سمجھوتے کے بعدسے جموں وکشمیرمیں سیزفائر کی خلاف ورزی یادراندازی کاکوئی واقعہ پیش نہیں آیاہے ۔ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق 26سے 30اپریل تک ہونے والی5روزہ کانفرنس میں فوج کے سربراہ جنرل ایم ایم نروانے کے علاوہ فوج کی شمالی ،جنوبی ،وسطی اورمغربی کمان کے کمانڈر بھی شامل ہوں گے ۔