سراسمیگی کا ماحول۔۔۔۔۔ حوصلوں کا امتحان

وادی میں طرح طرح کی قیا س آرائیوں اور افواہوں کی گرم بازاری سے سراسیمگی کا جو ماحول پیدا ہوا ہے، اُس سے عام لوگوں کے مصائب اور مشکلات دو چند ہونے لگے ہیں، اوپر سے کئی سرکاری محکمہ جات کی جانب سے متعلقین کے نام سٹاک جمع کرنے کی ہدایت نےا س سراسیمگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اگر چہ حکومت کی جانب سے گزشتہ دو روز کے دوران یہ واضح کیا گیا ہے کہ غذائی اجناس، پٹرول و ڈیزل اور ادویات وغیرہ کا معقول سٹاک جمع رکھنے کے پس منظر میں جموں سرینگر شاہراہ پر وقفے وقفے سے ٹریفک کی آمد ورفت میں خلل کا وقوع ہے لیکن اس کے باوجود اس ماحول میں تخفیف دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے۔ پلوامہ حملے کے بعد جنگ و جدل کے امکانات اور عدالت عظمیٰ میں زیر سمات دفعہ35-Aمعاملے پر متوقع فیصلے کے بارے میں قیاس آرائیوں اور جماعت اسلامی و جمعیت اہلحدیث اور مختلف مزاحمتی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کی وسیع پیمانے پر گرفتاریوں نے خوف و ہراس اور تذبذب کے اس ماحول کو مزید تقویت عطا کی ہے ، جس کی وجہ سے زمینی سطح پر مختلف مسائل پید اہوئے ہیں۔ پیٹرول و ڈیزل کی فروخت محدود کرنے سے پیٹرول پمپوں کے باہر گاڑیوں کی طویل طویل لائنیں لگی رہتی ہیں، جبکہ راشن گھاٹوں پر بھی ہر جگہ نہ تھمنے والی بھیڑ دیکھی جاسکتی ہے۔ اس طرح کے ماحول میں حالات کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے عناصر سرگرم ہوگئے ہیں اور صارفین کو دو دو ہاتھوں لوٹنے کا عمل شروع ہوا ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ کئی ایسے پیٹرول پمپوں ، جہاں سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے تیل فراہم نہیں ہوتا، کے گردو نواح میں پیٹرول و ڈیزل بلیک میں فروخت کیا جار ہا ہے اور راشن گھاٹوں کی صورتحال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔ یہ تو شہر اور قصبہ جات کی حالت ہے گائوں دیہات کے  لوگوں کو اس سے بھی زیادہ مشکلات کا سامنا ہے خاص کر اُن دو ر دراز اور پہاڑی علاقوں میں جہاں حالیہ برفباری کی وجہ سے آمد ورفت کے ذرائع بُری طرح متاثر ہوئے ہیں اور کئی علاقوں میں ہنوز معطل ہیں اور لوگ بنیادی ضروریات، جن میں غذائی اشیاء اور ادوایات وغیرہ شامل ہیں، کے لئے ترس رہے ہیں ۔ اگرچہ ان علاقوں کے لوگ بار بار احتجاج کرتے آئے ہیں مگر حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ من حیث المجموع جو صورتحال بنی ہوئی ہے، انتظامیہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی کہ وہ سراسیمگی کا یہ ماحول ختم کرنے کےلئے زمینی سطح پر متحرک ہو جائے۔ انتظامیہ کی جانب سے یہ وضاحت کی گئی ہے کہ اشیائے ضروریہ اور پیٹرول و ڈیزل سے لدے پانچ سو سےز ائد ٹرک اور ٹینکر راستے میں پھنسے ہوئے ہیں، جو شاہراہ کی بحالی کے ساتھ ہی وادی پہنچ جائینگے، لہٰذا بدیہی طور پر ضروری اشیاء کی قلت کے امکانات محدود ہیں، لیکن اسکے باوجود بازاروں میں گراں فروشوں نے جو لوٹ مچا رکھی ہے، اسکی جانب کوئی توجہ مبذول نہیں کی جارہی ہے، جس کے طفیل ایسے عناصر کے حوصلے بلند ہوتے جارہے ہیں۔ انتظامیہ کو خاص کر اس بات پر توجہ دینی چاہئے کہ مارچ کے مہینے میں بارشوں کے بہ سبب عام طور سے بھی شاہراہ پر عبورو مرور مشکل ہو جاتا ہے اور رواں برس اس کا زیادہ امکان ہے، کیونکہ  شاہراہ کی کشادگی اور زیر تعمیر ٹنلوں کے کام اور موسم سرما میں بار بار کی برفباری سے شاہراہ پہلے ہی تباہ حال ہے۔ لہٰذا آئندہ ماہ کے دوران مزید مشکلات کا امکان موجود رہیگا۔ اس ساری صورتحال کا مفصل جائزہ لیکر انتظامیہ کو عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کےلئے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہیں، جس سے سراسیمگی اور افراتفری کے اس ماحول میں بہتری پیدا ہو۔ عوام کو بھی چاہئے کہ وہ امکانی حالات سے خوف وہر اس میں مبتلاء ہونے کی بجائے صورتحال کا مثبت انداز سے سامنا کرنے کے حوصلے کو فروغ دیں۔ وادی کے عوام نے وقت وقت پر ماحولیاتی، ارضیاتی، انتظامی اور نفسیاتی یورشوں کا پامروی کے ساتھ مقابلہ کیا ہے اور موجودہ حالات بھی اس تاریخی کردار کو دہرانے کے متقاضی ہیں۔