ترال//جنوبی کشمیر کے سب ضلع ترال میں دو لاکھ سے زیادہ نفوس پر مشتمل آبادی کے لئے قائم ایس ڈی ایچ ترال میںبلڈ بنک کی عدم موجود گی کی وجہ سے یہاں کے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔اس دوران علاقے کے سب سے قدیم ہسپتال کا درجہ صرف کاغذات پر بڑھا یاگیا جبکہ مختلف شعبہ جات میں الگ الگ ماہر ڈاکٹروںکی عدم تعیناتی سے اس ہسپتال سے عوام کوکوئی راحت نہیں پہنچتی ہے جس کی وجہ سے یہاں کے مریضوں کو وادی کے مختلف ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔جنوبی کشمیر کے سب ضلع ترال میں2تحصیل آری پل اور ترال کے علاوہ3نیابتوں لرگام ،ڈاڈسرہ ،لرگام کے120گائوں کے 2لاکھ سے زیادہ نفوس پر مشتمل آبادی کے لئے قائم کئے گئے سب ضلع ہسپتال میں بلڈ بنک کے ساتھ ساتھ دیگر اہم سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے مریضوں کو طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔علاقے کے معزز لوگوں نے بتایا اگر چہ ہسپتال کا قیام قریب 70برس پہلے عمل میں لایا گیا ہے جس دوران اس ہسپتال کاایس ڈی ایچ کا درجہ بڑھایا گیا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا اس وقت لوگوں نے اسپتال کادرجہ بڑھانے پر زبردست خوشی کا اظہار کیا ہے کہ شائدلوگوں کو طبی سہولیات کے حوالے سے درپیش مشکلات کا ازالہ ہو گا۔انہوں نے بتایا کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود بھی ہسپتال میں آج تک بلڈ بنک قائم نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے دردذہ میں مبتلا خواتین کے ساتھ ساتھ نازک حالت کے مریضوں کو مجبوراً سرینگر یا وادی کے باقی علاقوںمیں قائم ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور کیاجاتاہے۔ ریاض احمد نامی ایک مقامی شہری نے بتایا یہاں ہسپتال میں صرف بلڈ بنک کا مسئلہ نہیں ہے ۔انہوں نے بتایا یہ ہسپتال ضلع پلوامہ بلکہ جنوبی کشمیر کے سب سے پرانے اہم ہسپتالوں میں شمار ہوتا ہے ،تاہم آج تک اس ہسپتال میں کئی ایم شعبہ جات کی کرسیاں خالی پڑی ہیں جس کی وجہ سے یہاں مختلف امراض کے علاج کے لئے مریضوں کو سرینگر یا وادی کے باقی ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے ۔ عوامی حلقوں کے مطابق ہسپتال میں طبی و نیم طبی عملی کی قلت بھی پائی جا رہی ہے ۔ترال کے ایک معروف سماجی کار کن نے بتایا در اصل ہسپتال کادرجہ کئی دہائی قبل بڈھایا گیا ، لیکن اسپتال کیلئے طبی ونیم طبی عملے کی اسامیاں وجودمیں نہیں لائی گئی۔