سبیل القرآن۔ ایک تفسیر،ایک دعوت

اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک بے مثال کلام نازل فرمایا۔وہ قرآن نازل فرمایا جو ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ معرفت کا خزینہ ہے۔ ایک لامثال معجزہ (Ultimate Miracle) ہے ۔ایک ایسا معجزہ ہے جو قیامت کی صبح تک انسانیت کو معجزات سے نوازتا رہے گا۔ ہر زمانے میں انسانیت کو ہدایات سے مالامال کرتا رہے گا۔ دنیا کتنا ہی ترقی کرے ، یہ کبھی غیر متعلق  (Irrelevant) نہیں ہو پائے گا۔
اللہ پاک نے ہر زمانے میں ایسے پاک نفوس پیدا کئے ، جنھوں نے راتوں کی نیند (Mid night oil) جلا کر اس مقدس کلام کو سہل و آسان بنا کر بندگان خدا پہنچا یا ۔ قرون خیر سے آج تک ہزاروں کی تعداد میں اور دنیا کی قریب قریب ہر چھوٹی بڑی زبانوں میں اس کے تراجم اور تفاسیر لکھے گئےاور لکھے جارہے ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ غیر مسلموں نے بھی یہ فریضہ انجام دیا ہے۔ ایسے میں اردو زبان جو ایک عالمی زبان کا درجہ رکھتی ہے ، میں بھی اب تک سینکڑوں تراجم وتفاسیر وجود پا چکے ہیں۔ ان میں سے اب تک  92 کو online بھی کیا جا چکا ہے۔ان تمام تفاسیر کی الگ الگ خوبیاں وخصوصیات ہیں۔ جو قاری کی کسی نہ کسی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ طوالت سے بچنے کے لیے اسے قطع نظر کیا جاتا ہے۔حالیہ دنوں میں ایک اور تفسیر منظر عام پر آ چکی ہے۔ جو’’ سبیل القرآن ‘‘( پارہ عم تفسیر و ترجمہ) کے نام سے شائع ہو کر آئی ہے۔ یہ کاوش محترم ومکرم غلام نبی شایق صاحب کی محنت شاقہ کا نتیجہ ہے۔ غلام نبی شایق محتاج تعارف نہیں ہے ۔ آپ وادی کشمیر کے دینی حلقوں میں ایک مقام رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو گوناگوں صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ آپ اردو، انگریزی، فارسی ، کشمیری اور عربی زبانوں عبور رکھتے ہیں۔ ایک موئثر مبلغ و مقرر کے ساتھ ساتھ ایک مدرس، ماہر تعلیم و ادیب بھی ہیں۔ پچھلے پانچ دہائیوں سے وادی کے طول وعرض میں درس وتدریس کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ چنانچہ’’ سبیل القرآن‘‘ آپ کی پہلی باقاعدہ تالیف ہے۔ محکمہ تعلیم سے سبکدوشی کے بعد پچھلی ایک دہائی سے شایق صاحب نے اپنے آپ کو اسی نازک مگر مقدس کام کے لیے وقف کیاہے۔ اس سے پہلے کشمیری زبان میں قریبا چودہ پاروں کا تفسیر لکھ چکے ہیں ، جو زیر طبع ہے۔
’’سبیل القرآن‘‘ایک علمی خزانہ ہے۔ جدید معلومات سے لیس ہے۔ یہاں تک کہ جدید دور کی زبان زدعام اصطلاحات کرونا وائرس، lockdown, social distancing, Google وغیرہ کا تزکرہ بھی ملتا ہے۔ مصنف نے سائنسی اسلوب (scientific  approach) اختیار کر کے جدید ذہن میں بات اتارنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ جگہ جگہ انگریزی اصطلاحات استعمال کر کے بات کو آسان بنانے کی سعی کی ہے۔ نقلی دلایلوں کے ساتھ ساتھ عقلی دلایل بھی ہیں۔ مؤلف نے موجودہ زمانے کے حالات و مسائل سے نتائج اخذ کیے ہیں ، تاکہ قارئین جان لیں کہ قرآن زماں و مکاں کی قیود سے آزاد ہیں۔ تاہم جو چیزیں اسے دوسرے تفاسیر سے ممتاز بناتی ہے ۔وہ کچھ اسطرح سے ہیں۔
۱۔  اکثر تفاسیر میں احادیث کا صرف ترجمہ دیا گیا ہے۔اگر کہیں پر عربی متن بھی ہے تو وہ اعراب کے بغیر ہیں۔ سبیل القرآن میں آپ کو اعراب سمیت تخریج بھی ملے گی۔ بقول مصنف کے۔’’یہی حال احادیث شریف کا ہے۔ متن کے ساتھ درج ہوں تو اس کا سمجھنا اور سمجھانا موثر ہو جاتا ہے۔ اس کی تاثیر دلوں کے اندر جگہ بنا دیتی ہے۔ میں نے اس کتاب میں ممکنہ حد تک احادیث شریف کو متن کے ساتھ درج کیا ہے اور متن کے اوپر اعراب بھی لگائے ہیں تاکہ درس قرآن شریف دیتے وقت مدرس کو حدیث پیش کرنے میں کوئی دقت نہ ہو جائے، جہاں ضروری ہوا وہاں الفاظ کے مفہوم کو واضح کرنے کے لیے عربی تفاسیر سے عربی لغت اعراب کے ساتھ پیش کی تاکہ قاری قرآن کریم کو سمجھنے میں آسائش ہو‘‘۔ (سبیل القرآن، پیش لفظ، صفحہ نمبر 5 )
۲۔ علماء کرام نے قرآن فہمی کے جو اصول بیان کیے ہیں۔ مؤلف نے ان اصولوں کے مطابق اسے ترتیب دیا ہے۔ تاکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ سے لیکر عام قاری بھی بہ آسانی استفادہ کرے۔ پہلے آیات کا لفظی ترجمہ( word to word)پیش کیا ہے۔ اس کے بعد آیت کا الگ سے ترجمہ کیا ہے۔ بعد میں تفسیری نوٹ لکھا ہے۔ سبیل القرآن مدرسین، مکاتیب کے معلم و طلباء، ائمہ و خطبا اور جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے معاون و مددگار ثابت ہو گا۔ انشاللہ
اس کی زبان عام فہم اور سادہ و سلیس ہے، البتہ بعض جگہوں پر بھاری بھرکم الفاظ و تراکیب اور محاورات کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ تاکہ قارئین لغت کا استعمال کر کے علم دوستی کا ثبوت فراہم کریں۔ بعض مقامات پر پروف ریڈنگ کی خامیاں ہیں، انھیں اگلے ایڈیشن میں دور کیا جا سکتا ہے۔
کتاب کا سرورق ( ٹائٹل) خوش نما اور حسین و جمیل ہے۔ 371 صفحات پر مشتمل یہ کتاب ’’ولر پبلشنگ ہاوس ‘‘ انت ناگ کشمیر نے شائع کی ہے۔ وادی کے تمام چھوٹے بڑے کتب فروشوں کے ہاں دستیاب ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ پوری انسانیت کو ، بالخصوص حاملین قرآن کو قرآن فہمی سے نوازے۔ مصنف کو مزید زور قلم عطا کرے۔ تعلیم وتعلم قرآن کا جوبیڑا اپنے کندھوں پر اُٹھایا ہے، اسے پائے تکمیل تک پہنچانے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے اور غیبی مدد سے نوازے۔ آمین