ساگر کی صدارت میں غوثیہ ہسپتال خانیار کی میٹنگ

ایمبولنس ساڑھے 4لاکھ اور ہسپتال میں دیگر سہولیات کیلئے ساڑھے 6لاکھ واگذار
سرینگر//نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری (ممبر اسمبلی خانیار) ایڈوکیٹ علی محمد ساگر نے غوثیہ ہسپتال خانیار میں روگی کلیان ،ہسپتال کی کارکردگی اور تعمیر و تجدید کے بارے میں میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ میں ہسپتال کے سپرانٹنڈٹ، آر این بی ، ایجوکیشن، زیڈ ای او، پی ایچ ای کے اعلیٰ افسران اور ڈاکٹروں و سٹاف ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہسپتال کی کارکردگی، مریضوں کو فراہم کی جارہی سہولیات ، ہسپتال کو فعال بنانے کیلئے درکار ساز وسامان اور دیگر معاملات کے بارے میں تفصیلات فراہم کی گئی۔ اجلاس میں علی محمد ساگر نے ہسپتال کو مریضوں کیلئے 24گھنٹے کھلا رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے ہسپتال کے طبی عملہ کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ انہوں نے ہسپتال کیلئے ایک ایمبولنس کیلئے ساڑھے 4لاکھ اور دیگر ضروریات کیلئے ساڑھے6لاکھ روپے واگذار کئے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 3ماہ کے دوران جس وقت لوگوں پرائیویٹ علاج و معالجہ دستیاب نہیں تھا اور نہ ہی لوگ بڑے ہسپتالوں تک پہنچ سکتے تھے، اُس وقت اس ہسپتال پر انتہائی زیادہ دبائو پڑا اور یہاں کے عملہ نے ان کے ایام کے دوران جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا وہ ناقابل فراموش ہے۔ ساگر نے کہا کہ عمر عبداللہ حکومت کے دوران طبی شعبہ کی طرف خصوصی توجہ دی گئی اور ہماری حکومت کی کوششوں اور کاوشوں کی بدولت ہی یہاں کا طبی شعبہ فروغ پاسکا ۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس ہسپتال کی وجہ سے ایک وسیع آبادی کو فائدہ پہنچا ہے۔ ساگر نے کہا کہ ہمارا مقصد ہے کہ یہاں آنے والے مریضوں کو بہتر سے بہتر علاج و معالجہ فراہم ہوسکے ۔