لندن// گزشتہ ایک دہائی کے دوران 2018 ایسا واحد سال گزرا جس دوران دنیا کے کسی بھی ملک میں حکومت کے خلاف بغاوت نے جنم نہیں لیا۔ حکومت کے خلاف بغاوت کی تاریخ کے حوالے سے بات کی جائے تو 2018 صدی کا وہ دوسرا سال ہے جس میں کسی بھی ملک میں جمہوری حکومت کو نہیں گرایا گیا اور نہ ہی بغاوت کی کوشش کی گئی۔ واضح رہے کہ نومبر 2017 میں فوج نے زمباوے کے صدر رابرٹ موگاب کے خلاف بغاوت کرکے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 1950 سے اب تک کْل 463 بغاوتوں نے جنم لیا، جس میں سے 233 کامیاب رہیں۔ اقتدار غیر جمہوری طاقتوں کو منتقل ہونے سے خانہ جنگی، سخت گیر کریک ڈاؤن اور اقتصادی جمود نے جنم لیا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دس سال کے دوران پہلا اور ایک صدی کے دوران سال 2018 وہ دوسرا سال تھا، جس میں کسی بغاوت نے جنم نہیں لیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 20ویں صدی کے اواخر میں 99 فیصد امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ ہر سال کم از کم ایک بغاوت سر اٹھائے گی۔ اس پیش گوئی کے لیے انتخابات، اقتصادیات، تنازعات، قائدین اور سیاست کے اعداد و شمار کا سہارا لیا گیا۔ جمہوری حکومتوں کے خلاف بغاوت کا سلسلہ سال 2000 میں تھم گیا اور 2018 میں اس کی شرح انتہائی کم یعنی 88 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اعداد وشمار کے مطابق بعض خطوں میں بغاوت کے امکانات کا گراف غیر معمولی حد تک گرا۔ لاطینی امریکا کے ممالک 20ویں صدی میں بغاوت کے مرکز رہے جس میں ارجنٹائن، وینزویلا، ہونڈیورس اور بولیویا میں متعدد مرتبہ فوج نے منتخب حکومتوں کا تختہ الٹا۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ لاطینی امریکا میں 1950 سے اب تک 142 بغاوتیں ہوئیں جس میں سے سال 2000 میں 5 مرتبہ فوجی بغاوت نے جنم لیا۔