سال رواں کا سب سے بڑا اضافہ | 573متاثر،3فوت | کل متوفین 2008،وائرس میں مبتلا کی مجموعی تعداد 133012

 سرینگر// جموں و کشمیر میںکورونا وائرس کی لہر میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت آرہی ہے۔ رواں سال کے سب سے بڑے اضافہ کے ساتھ اتوار کو جموں و کشمیر میں ریکارڈ 573 افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ اس دوران3افراد وائرس سے فوت ہوگئے۔ پچھلے 24گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے 42ہزار 347تشخیصی ٹیسٹ کئے گئے جن میں 573افراد کی رپورٹیں  مثبت آئیں جن میں سے 122جموں جبکہ 451کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے 451افراد میں 369 افراد مقامی سطح پر وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ 82افراد مختلف یاستوں اور ممالک سے واپس لوٹے ہیں۔ اس دوران کشمیر صوبے میں وائرس سے 2افراد فوت ہوگئے جن میں بڈگام اور ایک سرینگر سے تعلق رکھتا ہے۔ مرنے والوں میں پکھر پورہ بڈگام کا 60سالہ شخص اور خانیار سرینگر کی 57سالہ خاتون شامل ہے۔ متوفین کی مجموعی تعداد 1267 ہوگئی ہے۔ متاثرین کی مجموعی تعداد 79ہزار 645تک پہنچ گئی ہے جن میں 3033سرگرم معاملات بھی شامل ہیں۔ کشمیر صوبے کے سرگرم معاملات میں سرینگر میں1526، بارہمولہ میں601، بڈگام میں 309، پلوامہ میں 101، کپوارہ میں 102، اننت ناگ میں 88، بانڈی پورہ میں 66، گاندربل میں 49، کولگام میں 154 اورشوپیان میں 37افراد زیر علاج ہیں۔ جموں صوبے میں اتوار کو 122افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں جن میں 99مقامی سطح پر جبکہ 23سفر کرکے واپس لوٹے ہیں۔ جموں صوبے اس دوران ایک شخص وائرس سے فوت ہوگیا ہے،متوفین کی مجموعی تعداد 741تک پہنچ گئی۔ جموں صوبے میں وائرس سے متاثر ہونے والوں کی مجموعی تعداد53367ہوگئی جن میں 922سرگرم معاملات بھی شامل ہیں۔ سرگرم معاملات میں ضلع جموں میں661، ادھمپور میں39، راجوری میں28، ڈوڈہ میں13، کٹھوعہ میں 82، سانبہ میں 33، کشتواڑ میں17، پونچھ میں 19، رام بن میں24 اور ریاسی سے 6تعلق رکھتے ہیں۔جموں و کشمیر میں متاثرین کی مجموعی تعداد 1لاکھ 33ہزار کا ہندسہ پار کرکے133012ہوگئی ہے جبکہ یہاں متوفین کی مجموعی تعداد 2008تک پہنچ گئی ہے۔ 
 

سفر سے لوٹنے والے مزید 105 متاثر | 48دنوں میں 1764وائرس میں مبتلا ، 1533وارد کشمیر 

پرویز احمد 
 سرینگر // سفر کرکے وادی لوٹنے والے مزید 105افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں اور اسطرح پچھلے 48دنوں کے دوران واپس لوٹنے والے 1764افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں جن میں 252اپریل کے ابتدائی 4دنوں کے دوران واپس آئے۔ پچھلے48دنوں کے دوران بیرون ریاستوں اور مختلف ممالک سے آنے والے 1764افراد کو وائرس سے متاثرپایا گیا جن میں سے 1533افراد کشمیر جبکہ دیگر 231جموں صوبے سے تعلق رکھتے ہیں۔جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کی دوسری لہرکا آغاز 15فروری کو ہوا اور 15فروری کو بیرون ریاستوں اور ممالک سے آنے والے  11ہزار 956افراد وائرس  میں مبتلا تھے جو 4اپریل تک 13720ہوگئی ہے۔ اسطرح 48دنوں کے دوران بیرون ریاستوں اور ممالک سے آنے والے1764افراد کو وائرس میں مبتلا پایا گیاجن میں 1533کشمیر آئے ہیں ۔سفر کرکے کشمیر آنے والے افراد میںاپریل کے ابتدائی چار دنوں سے ہی مزید اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور اپریل کے ابتدائی چار دنوں میں بیرون ریاستوں سے آنے والے252افراد کو وائرس سے متاثر پایا گیا جن میں 55یکم اپریل، 2اپریل کو 63، 3اپریل کو 52 اور 4اپریل بیرون ریاستوں اور ممالک سے آنے والے 82افراد کی رپورٹیں مثبت پائی گئی۔اس سے قبل مارچ مہینے میں سفر کرکے وادی آنے والے 869افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں جن میں یکم مارچ کو 22، 2مارچ کو 42، 3مارچ کو32افراد ، 4مارچ کو 17، 5مارچ کو 14، 6مارچ کو 17، 7مارچ کو 16، 8مارچ کو 19، 9مارچ کو 17، 10مارچ کو 16، 11مارچ کو 21، 12مارچ کو17، 13مارچ کو 25، 14مارچ کو 12، 15مارچ کو 20، 16مارچ کو 10، 17مارچ کو 29، 18مارچ کو 33، 42مارچ کو 19، 20مارچ کو 20، 21مارچ کو 30، 22مارچ کو 19، 23،مارچ کو 31، 24مارچ کو 25، 25مارچ کو 36،26مارچ کو 52، 27مارچ کو 44، 28مارچ کو 42،29مارچ کو 47، 30مارچ کو 64 اور 53مارچ کو 52افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔  15فروری سے 28فروری تک 412افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں جن میں 15فروری کو 26، 16فروری کو 20، 17فروری کو  37، 18فروری کو 44،19فروری کو 21، 20فروری کو 6، 21فروری کو 28،22فروری کو 14، 23فروری کو 47، 24فروری کو 67، 26فروری کو 28، 27فروری کو 36، 28فروری کو 12افرادکی رپورٹیں مثبت آئیں۔ 
 

کووِڈ انفیکشن میں اِضافہ | 15روز تک سکول بند کرنیکا اعلان

نیوز ڈیسک
جموں//کووِڈ۔ 19 معاملات کی تعداد میں حالیہ اِضافے پر قابو پانے کیلئے حکومت نے نویں جماعت تک کے تمام سکولوں کو دو ہفتوں کے لئے بند ررکھنے فیصلہ کیاہے جبکہ دسویں سے بارہویں جماعت تک آج یعنی سوموارسے ایک ہفتے کے لئے سکول بند رہیں گے۔ اِس سلسلے میں جاری کردہ ایک حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میںکووِڈ۔19 کے پھیلاؤ اور نئے  معاملات میں یہ رجحان خصوصاًانفیکشن کے روزانہ رپورٹ ہونے والے واقعات کی تعداد میں حالیہ اضافے اور چھوٹے بچوں میں انفیکشن ہونے اور انفیکشن کی بڑی تعداد میں منتقلی کا امکان پایا جاتا ہے۔اِس کا حکم مذکورہ تشخیص کی بنیاد پر ریاستی ایگزیکٹیو کمیٹی نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2005 کی دفعہ 24 کے تحت اِختیارات کے استعمال میں دیا ہے۔حکمنامے میںکہا گیا ہے کہ جموں و کشمیریوٹی کے تمام سکولوں میںنویں جماعت تک 18؍ اپریل 2021ء تک لازمی طور پر بند رہیں گے۔اِس میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام سکولوں میں دسویں سے بارہویںجماعت تک11 ؍ اپریل 2021ء تک بند رہیں گے جبکہ دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات شیڈول کے مطابق منعقد ہوں گے ۔حکمنامے میں یہ بھی کہا گیا کہ ہر قسم کے معاشرتی اور روایتی اِجتماعات میں 200 افراد کی زیادہ سے زیادہ حد ہوگی جس کے تحت اس سلسلے میں موجودکووِڈرہنما خطوط پر سختی سے پابندی ہوگی۔اِس حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ30؍ مارچ2021ء کو پہلے ہی جاری کردہ کووِڈ ایس او پیز پرہر صورت میں اطلاق جاری رہے گا۔
 
 
 

بھارت میں کورونا کی دوسری لہر  | وزیر اعظم نے میٹنگ میں صورتحال پر تبادلہ خیال کیا

نیوز ڈیسک
نئی دلی //ملک کی 10 ریاستوں میں تیزی سے بڑھ رہے کورونا معاملات اور کورونا مخالف ٹیکہ کاری جا جائزہ لینے کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ویڈو کانفرنس کے ذریعے جائزہ میٹنگ کا انعقاد کیا ۔ میٹنگ کے دوران وزیر اعظم نے طبی ماہرین پر مشتمل مرکزی ٹیم مہاراسٹرا، پنجاب اور چھتیس گڑھ بھیجنے کا فیصلہ کیا جہاں صورتحال کافی سنگین ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ماہرین کی یہ ٹیم کورونا وائرس کی روکتھام کیلئے   5 نکاتی منصوبہ بنائے گا جس میں ٹیسٹنگ، رابطوں کا پتہ لگانے،  علاج، قوائد و ضوابط پر عمل آواری کے علاوہ ٹیکہ کاری کو سنجیدگی کے ساتھ لوگو کرنے سے عالمی وبا کو روکنے میں کامیابی ملے گی۔ میٹنگ کا انعقاد اسوقت کیا گیا جب بھارت میں اتوار کو ریکارڈ 93ہزار 249افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں  جو ملک میں اس سال کا سب سے بڑا اچھال ہے۔ مرکزی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ملک میں ابتک ایک کروڑ 24لاکھ 85ہزار 509افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔  بیان میں کہا گیا ہے کہ کورونا متاثرین کی تعداد میں اچھال  قوائد و ضوابط پر عمل نہ کرنے، سماجی دوری ، ماسک نہ پہنا اور متاثرہ علاقوں پر نظر گزر میں کمی کی وجہ سے ہوئی ہوگی ۔ وزیر اعظم نے کسی بھی صورت میں اموات میں کمی لانے اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور دیگر اقدامات اٹھانے کیلئے تمام ریاستوں پر ضرور دیا اور ان اقدامات کو سختی سے لاگو کرنے ی ہدایت دی تاکہ عالمی وباء کو روکا جاسکے۔ میٹنگ کے دوران وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ کورونا متاثرین کی تعداد میں کافی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جبکہ اموات بھی بڑھ رہی ہیں اور ان میں 91فیصد صرف 10ریاستوں میں سامنے آرہے ہیں۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ ویکسین بنانے والی کمپنیوں نے بھی پیداوار میں اضافہ جبکہ دیگر گھریلوں کمپنیوں سے بھی بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیر اعظم نے  متاثرین اور اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے طبی ماہرین کی مرکزی ٹیم مہاراسٹرا ، پنجاب اور چھتیس گڑھ بھیجنے کی ہدایت دی کیونکہ ان ریاستوں میں زیادہ اموات ہورہی ہیں۔ وائرس کو قابو کرنے اور لوگوں میں جانکاری بڑھانے کیلئے مودی نے ’’ جن باگھیداری اور جن آندولن‘‘کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں 6 اپریل سے 14اپریل تک لوگوں میں معیاری ضابطہ اخلاق، ماسک لگانے، ذاتی صفائی اور عوامی اہمیت کے مقامات اور دیگر اقدامات پر عمل کرنے کا رحجان برھانے کیلئے مہم  شروع کرنے کی ہدایت دی۔ میٹنگ کے دوران وزیر اعظم نے لوگوں میں  آنے والے دنوں میں جانکاری برھانے، اسپتالوں میں بستروں کی تعداد بڑھانے ، ٹیسٹنگ اور وقت پر اسپتال منتقل کرنے کیلئے سہولیات دستیاب رکھنے کی ہدایت دی۔  انہوں نے اموات کی کمی کیلئے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے، آکسیجن دستیاب رکھنے، وینٹی لیٹرز اور دیگر آلات کو فراہم کرنے پر زور دیا  اور اسپتالوں اور گھروں میں زیر علاج افراد کو ضروری علاج فراہم کرنے کی ہدایت دی۔  وادی نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ تمام ریاستوں اور اضلاع کا جائزہ لینے کیلئے بہتری کی تفاصیل تمام مرکزی زیر انتظام علاقوں اور ریاستوں کو جانکاری دیں۔ میٹنگ میں ویز راعظم کے پرنسپل سیکریٹری، کابینہ سیکریٹری ، ہوم سیکریٹری اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ 
 
 

 کورونا وائرس کی نئی ہیت | جموں میں5متاثرین،کشمیر کی رپورٹ آنا باقی

پرویز احمد 
 سرینگر //جموں و کشمیر میں نئے وائرس نے دستک دی ہے ۔ جموں صوبے میں 4متاثرین میں برطانیہ سے آنے والے نئے ہیت کے وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ ایک مریض مختلف وائرسوں میں مبتلا ہے۔فائنانشل کمشنر صحت و طبی تعلیم اتل ڈلو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ جموں صوبے میں 4افراد کو برطانیہ میں پائے جانے والے نئے ہیت کے وائرس سے متاثر ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر صوبے سے بھی نمونے دلی بھیجے گئے ہیں لیکن ابھی تک انکی رپورٹ نہیں آئی ہے۔ اتل ڈلو نے کہا ’’ وائرس کے Genomeکا پتہ لگانے کیلئے ٹیسٹ کرنے میں 5دنوں سے ایک ہفتہ تک کا وقت لگتا ہے لیکن کشمیر میں بھی نیا وائرس موجود ہوسکتا ہے‘‘۔ ادھر جواہر لال نہرو میموریل اسپتال میں داخل جنوبی کوریا  سے تعلق رکھنے والے 2متاثرین کو گھر روانہ کردیا گیا ہے۔ رعناواری اسپتال میں کورونا وائرس پر نظر رکھنے کیلئے تعینات نوڈل آفیسر ڈاکٹر بلقس نے بتایا ’’ جنوبی کوریا کے دونوں متاثرین کی رپورٹ 24گھنٹوں کے دوران 2مرتبہ منفی آئیں اور اسلئے انہیں اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریاسے تعلق رکھنے والا ایک جوڑا پچھلے25سال سے دلی میں قیام پزیر ہے ۔