سالانہ میزانیہ کے اعدادوشمار مایوس کن

سرینگر//جموں کشمیر کے سالانہ بجٹ میںتاجروں،صنعت کاروں اور ٹرانسپورٹروں کیلئے کوئی مالی پیکیج کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔حالانکہ پچھلے سال کی طرح ہی گذرے مالی سال کے دوران بھی لاک ڈائون کے نتیجے میں تجارت کو 2 ہزار کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ مرکزی حکومت نے جموں کشمیر کے بجٹ کیلئے35ہزار کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔لیکن وادی سے تعلق رکھنے والے کارباریوں نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ جموں کشمیر کی معیشت کو بحال کرنے کیلئے نا کافی ہے۔ تجارتی و کاروباری انجمنوں کا کہنا ہے امسال تجارت کو قریب2ہزارکروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ جموں و کشمیر کے لیے 35,581کروڑ روپے میں سے 33,923کروڑ روپے محصولات کے خسارے اور وسائل کے فرق کو پورا کرنے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔جموں و کشمیر کے تاجروں نے  35,581کروڑ کے بجٹ کے اعلان کو، اس کے ریونیو جزو کی وجہ سے، "مایوس کن" اور "امیدوں سے بہت کم" قرار دیا۔کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (KCCI) کے صدر شیخ عاشق نے کہا کہ ہمیں مقامی کاروباریوں کے لیے خصوصی اسکیموں کی توقع تھی۔"ہم کاروبار کی بحالی کے لیے بڑے اعلانات کی توقع کر رہے تھے، جب تک جموں و کشمیر میں موجودہ کاروباروں کو ہاتھ سے پکڑنے کی پیش کش نہیں کی جاتی ہے، بے روزگاری صرف بڑھے گی۔ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر شیخ عاشق کا کہنا ہے کہ حکومت متعلقین کی طرف سے دی گئی تجاویز، حتی کہ اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے معاملے میں بھی کمزور رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ مالیاتی پیکیج کو حتمی شکل دے جس کا حکومت نے 2016 کے بعد وعدہ کیا تھا، نیز کاروبار کی بحالی کیلئے تمام کاروباری شعبوں کو نرم قرضے فراہم کیے جائیں۔ اس کے علاوہ کشمیر میں سیاحت کی صنعت کے احیا اور فروغ کے لیے کئی چیزیں تجویز کی ہیں۔شیخ عاشق کا مزید کہنا تھا کہ دستکاری کے شعبے کے لیے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیر میں کارپٹ ویلجز کے قیام کے بارے میں اپنے وعدے پر عمل کرے۔فیڈریشن چیمبر آف انڈسٹریز کشمیر (ایف سی آئی کے) کے سیکرٹری جنرل اویس قادر جامی نے کہا کہ بجٹ میں ایم ایس ایم ای سیکٹر میں مانگ کو بڑھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ جموں و کشمیر کے صنعتی شعبے کو خصوصی پیکیج کی ضرورت ہے۔ بجٹ میں جموں و کشمیر کے صنعتی شعبے کے لیے کوئی روڈ میپ نہیں ہے۔ موجودہ صنعت جموں و کشمیر میں بیمار ہو رہی ہے۔ فیڈریشن چمبر آف انڈسٹرکشمیر میر شاہد کاملی کا کہنا ہے’’ہماری صنعت کی قابل رحم حالت ذہن میں رکھتے ہوئے، ما قبل بجٹ میٹنگ میں حکومت کو کئی تجاویز دی گئیں۔ان کا کہنا تھا’’ ہم نے حکومت سے’کاروباری معاونت‘کی درخواست کی ہے۔ ‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ صنعت کو دی جانے والی تمام ترجیجات کو واپس لے لیا گیا ہے، جس سے صنعت کو غیر مسابقتی بنا دیا گیا ہے۔کاملی نے کہا’’ ہم نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ  جموں کشمیرمیں مقامی صنعت کے لیے ایک مضبوط مقامی خریداری کی پالیسی لے کر آئے اور اس کے علاوہ، صنعتوں کو صد فیصد جی ایس ٹی کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ انہیں باہر کی مارکیٹ کے ساتھ مسابقتی بنایا جا سکے۔ کشمیر اکنامک الائنس شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار، جموں کشمیر اکنامک کنفیڈریشن چیئرمین پیر امتیاز الحسن ،کشمیر ٹریڈ الائنس کے صدر اعجاز شہدار اور جموں کشمیربزنس کنفیڈریشن کنوینر محمد الطاف ڈار کا کہنا ہے کہ2برسوں تک سود میں رعایت،اور ٹیکسوں میں چھوٹ فراہم کیا جائے۔