سادھوی عصمت دری معاملہ

روہتک//ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم کو سادھوی عصمت دری معاملے میں10برس کی قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے خصوصی جج جگدیپ سنگھ نے یہاں سوناریا جیل میں واقع خصوصی عدالت میں رام رحیم کو دس برس قیدبامشقت کی سزا سنائی۔ پچاس سالہ رام رحیم کو تعزیرات ہند (آئی پی سی)کی دفعہ 376(عصمت دری)، 506(ڈرانے دھمکانے) اور 509(خاتون کی عزت سے کھلواڑ) کے تحت قصوروار پایا گیا ہے۔ ہریانہ کے پنچکولہ میں واقع سی بی آئی عدالت کے خصوصی جج نے 25اکست کو 15برس پرانے اس معاملے میں رام رحیم کو سادھوی کی عصمت دری کا قصوروار قرار دیا تھا۔رام رحیم کو قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد پنچکولہ کے ساتھ ساتھ ہریانہ، پنجاب ، دہلی اور کئی دیگر ریاستوں میں ڈیرہ کے پیروکاروں نے بڑے پیمانہ پر تشد دکیا تھا جس کے پیش نظر سزا سنانے کے لئے جیل میں ہی عارضی خصوصی عدالت قائم کی گئی۔ رام رحیم کو سزا سنانے کے لئے جج کو ہیلی کاپٹر سے صبح سوناریا جیل لایا گیا۔ قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد پیروکاروں کے تشدد کے پیش نظر انتظامیہ نے اس مرتبہ سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے ہیں۔ روہتک جیل کے آس پاس کا علاقہ چھاونی میں تبدیل کردیا گیا ہے اور کئی کلومیٹر کے دائر ے میں کسی کے بھی آنے جانے پر مکمل طورپر روک ہے۔ کئی سطحوں پر سکورٹی کے انتظامات کئے گئے تھے اور روہتک میں دفعہ 144نافذ کی گئی ہے۔یہ معاملہ 2002کا ہے تب ایک سادھوی نے گمنام خط لکھ کر سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی سے اس معاملے کی جانچ کی درخواست کی تھی۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں خود نوٹس لیتے ہوئے سی بی آئی کو تفتیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ تفتیشی ایجنسی نے 30جولائی 2007کو معاملہ درج کیا تھا اور اس معاملے میں 18سادھویوں سے پوچھ گچھ کی تھی جن میں سے دو نے عصمت دری کا اعتراف کیا تھا۔ اس معاملہ کی ستمبر 2008میں سماعت شروع ہوئی تھی۔گرمیت رام رحیم نے سماعت کے دوران عصمت دری کے الزام کو جھوٹا بتایا اور کہا کہ وہ جنسی تعلقا ت قائم کرنے کا اہل نہیں ہے۔ گزشتہ 25اگست کو ہوئے تشدد میں 38لوگ مارے گئے تھے۔