سرینگر//جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے سینئربھاجپا رہنمااورسابق نائب وزیراعلیٰ نرمل سنگھ کوجموں کے مضافات میں غیرقانونی طریقے سے تعمیر کیا گیا مکان منہدم کرنے کیلئے کہا ہے۔ سنگھ اور اس کاعیال گزشتہ برس 23 جولائی کو نگروٹہ کے بن گائوں میں فوجی اسلحہ ڈیپوکے قریب تعمیر کئے گئے محل نما مکان میں منتقل ہوئے،اگرچہ عدالت نے مئی2018میں حکام کو ہدایت دی تھی کہ وہ2015کی نوٹیفیکیشن ،جس میں عام لوگوں کو فوجی تنصیب کے 1000گز کے حدودمیں کسی بھی تعمیراتی کام سے روک دیاگیاتھا،پرمن وعن عمل کریں۔ بھاجپارہنما نے جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے نوٹس موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہے اورمیں مستقبل کے لائحہ عمل کیلئے اپنے وکلاء سے مشورہ کروں گا۔نرمل سنگھ جو لدھیانہ میں تھے،نے کہا ،’’ میں نے یہ زمین2014میں خریدی ہے اور اس لئے میں اس پر مکان تعمیر کررہاتھا۔میں دوسال قبل یہاں منتقل ہوااوریہ پہلی بار ہے جب مجھے نوٹس ملی ہو۔مجھے نہیں معلوم اس میں کیا ہے لیکن میں نے اپنے وکیلوں سے کہا ہے‘‘۔انہوں نے مزیدکہا کہ جموں میں متعددغیرقانونی کالونیاں ہیں ،کئی بڑے نام ہیں جنہوں نے جنگلات کی اراضی ،جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی اراضی پرقبضہ کیا ہے ،لیکن اس پر آج تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔تاہم مجھے اُجاگر کیاجاتا ہے اور معاملے کوسیاسی رنگت دی جارہی ہے‘‘۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے اورمجھ پر بھی قانون کا اطلاق ہوتا ہے۔جموں ڈیولمپنٹ اتھارٹی نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ عمارت بااختیار محکمہ سے اجازت کے بغیر ہی تعمیر کی گئی ہے اورآپ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ آپ اس حکم کے اجراء ہونے کے پانچ روز کے اندر خود ہی اس غیر قانونی تعمیر کوہٹائیں۔اگر آپ معینہ مدت میںاس کو ہٹانے میں ناکام ہوئے ،تویہ کام جموں ڈیولمپنٹ اتھارٹی کی اینفورسمنٹ ونگ انجام دے گی اور اس کوہٹانے کا خرچہ آپ سے وصول کیاجائے گا۔