آن لائن دھوکہ دہی سے ہوشیار رہیں، او ٹی پی شیئر کرنا بڑا خطرہ
سرینگر//جموں و کشمیر میں ڈیجیٹل ادائیگیوں، آن لائن بینکنگ، اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ پر مبنی خدمات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ سائبر جرائم کے واقعات میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ڈیجیٹل سکیورٹی ایک سنجیدہ عوامی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔قومی کرائم ریکارڈ بیورو کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں سائبر جرائم کے 2019 میں 73 مقدمات درج ہوئے تھے، جو 2020 میں بڑھ کر 120، 2021 میں 154، 2022 میں 173 اور 2023 میں 185 تک پہنچ گئے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ خطے میں سائبر جرائم مستقل طور پر بڑھ رہے ہیں۔
سائبر سکیورٹی کو مضبوط بنانے کیلئے ٹیلی کام کمپنیاں بھی مختلف اقدامات کر رہی ہیں۔ فروری 2026 میں ایئرٹیل نے مصنوعی ذہانت پر مبنیاو ٹی پی فراڈ الرٹ فیچر متعارف کرایا، جو صارفین کو ایسے مواقع پر فوری انتباہ فراہم کرتا ہے جب کسی مشکوک فون کال کے دوران بینکنگ او ٹی پی موصول ہو۔ کمپنی کے مطابق اس کا مقصد صارفین کو بروقت خبردار کرکے انہیں فراڈ سے بچانا ہے۔ماہرین کے مطابق سائبر مجرم فون کالز، ایس ایم ایس، جعلی لنکس، فرضی کسٹمر کیئر نمبروں، کے وائی سی اپ ڈیٹ کے نام پر پیغامات، بینک یا ڈیجیٹل والٹ فراڈ اور سرکاری افسران کا روپ دھار کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ان ہتھکنڈوں کے ذریعے لوگوں میں خوف یا جلد بازی پیدا کرکے حساس معلومات حاصل کی جاتی ہیں یا جعلی لین دین کی منظوری لے لی جاتی ہے۔او ٹی پی سے متعلق فراڈ کو سائبر جرائم کی سب سے خطرناک شکلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔