جی کیو کامران
کشمیر اور لداخ کے مابین رابطے کے ایک نئے اور اہم دور کا آغاز اس وقت ہوا جب مرکزی وزیر برائے روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز نتن گڈکری نے 9 جون 2026 کو سطح سمندر سے تقریباً 11578 فٹ کی بلندی پر زیر تعمیر زوجیلا ٹنل کا آخری بریک تھرو کیا۔اس تاریخی تقریب میں ان کے ہمراہ جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونائی کمار سکسینہ بھی شامل رہے 13.153 کلو میٹر طویل یہ سرنگ ایشیا کی طویل ترین ٹنل ہے۔اس اہم اور تاریخی ٹنل سے دونوں خطوں کے مابین رابطے کا ایک نیا باب کھل جائے گا۔
نیشنل ہائی ویز اینڈ انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (NHIDCL) کے مطابق یہ تاریخی کامیابی مقررہ وقت سے چھ ماہ قبل ہی حاصل کر لی گئی۔ کھدائی کا یہ بنیادی کام مکمل ہونے کے بعد اب سرنگ کے اندر سڑک کی تعمیر، بجلی کی لائنیں بچھانے، سی سی ٹی وی کیمرے اور جدید وینٹیلیشن سسٹم کی تنصیب جیسے آخری مراحل تیز رفتاری سے مکمل ہو سکیں گے۔ سرینگر۔لیہہ قومی شاہراہ پر واقع یہ ‘دو طرفہ (Two-way) ٹنل لداخ کے لیے ایک نئی شاہ رگ ثابت ہوگی، کیونکہ شدید برف باری اور برفانی تودوں کے باعث یہ شاہراہ سردیوں میں تین ماہ کے لیے بند ہو جاتی تھی اور لداخ کا رابطہ پورے ملک سے کٹ جاتا تھا۔ اس سدا بہار سرنگ کے فعال ہونے سے اب وادی کشمیر اور لداخ کے درمیان سال بھر بلا رکاوٹ رابطہ برقرار رہے گا اور اس سے بھی بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ درہ زوجیلا پار کرنے کا جو سفر پہلے دو سے تین گھنٹے کا وقت لیتا تھا، وہ اب محض 15 سے 20 منٹ میں طے ہو جائے گا۔
ملک کے اہم ترین منصوبوں میں شامل ‘زوجیلا پروجیکٹ کی راہ میں کئی کٹھن رکاوٹیں حائل ہوئیں۔ ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے اندر غیر متوقع جغرافیائی چیلنجز کے باعث اس منصوبے کے اصل ڈیزائن میں چار مرتبہ تبدیلیاں کرنا پڑیں۔ اکتوبر 2020 میں کام کے آغاز کے بعد انجینئروں کو نہ صرف خون جما دینے والی شدید سردی کا سامنا تھا، بلکہ سیزمک زون 4 (زلزلہ خیز خطے) میں واقع غیر مستحکم چٹانوں کی ساخت نے بھی اس کام کو انتہائی پرخطر بنا دیا تعمیراتی کمپنی ‘میگا انجینئرنگ اینڈ انفرااسٹرکچر لمیٹڈ(MEIL) کے ڈیزائن ڈائریکٹر محمد رفیع کے مطابق، زوجیلا پاس پر تعمیر ہونے والی تمام سرنگوں میں یہ سب سے زیادہ مشکل اور آزمائشی منصوبہ ثابت ہوا، جسے نیشنل ہائی ویز اینڈ انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (NHIDCL)اور وزارتِ روڈ ٹرانسپورٹ کی مشترکہ کوششوں سے ممکن بنایا گیا۔
مرکزی وزیر نتن گڈکری نے اس تاریخی کامیابی کو ملکی انفراسٹرکچر کے لیے ایک سنہرا دن اور حکومت کا بڑا معرکہ قرار دیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ابتدائی طور پر اس منصوبے کا تخمینہ 12 ہزار کروڑ روپے لگایا گیا تھا، لیکن جدید حکمتِ عملی کی بدولت یہ صرف 7 ہزار کروڑ روپے میں مکمل ہو رہا ہے۔ اس میگا پروجیکٹ کو ‘لداخ کی ‘شاہ رگ قرار دیتے ہوئے انہوں نے انجینئروں اور تکنیکی ماہرین کی انتھک محنت کو زبردست الفاظ میں سراہا۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے زوجیلا ٹنل کے آخری بریک تھرو کو ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا ہے۔کرگل کے علاقے منی مرگ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سال بھر کھلی رہنے والی اس سرنگ سے جہاں سیاحت کو فروغ ملے گا اور سپلائی چین مستحکم ہوگی وہیں کشمیر اور لداخ کے خطوں میں معاشی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ہوگا۔جبکہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس ٹنل کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے لوگوں بلخصوص مرکزی زیرِ انتظام والے علاقے لداخ کے عوام کی زندگیاں یکسر بدل جائیں گی۔
زوجیلا ٹنل کا ایک سرا وسطی ضلع گاندربل کے بال تل علاقے سے جڑا ہے، اور دوسرا سرا لداخ کے ضلع کرگل میں واقع منی مرگ پر کھلتا ہے۔ یہ سرنگ کشمیر اور لداخ کے مابین صدیوں پرانے اس جغرافیائی جمود کو توڑ دے گی جس کے باعث سردیوں میں دونوں خطوں کا آپسی رابطہ مہینوں کٹا رہتا تھا۔ ماضی میں سرمائی لہروں کے دوران درۂ زوجیلا کو عبور کرتے ہوئے اچھے اور تجربہ کار مسافروں کے دل بھی دہل جاتے تھے، مگر اب اس سرنگ کی بدولت یہ پرخطر سفر نہ صرف انتہائی آسان اور محفوظ ہو جائے گا، بلکہ وقت کی بھی بھاری بچت ہوگی۔ اس زمینی رابطے سے صدیوں پرانے انسانی رشتے اور باہمی تعلقات اب مزید مستحکم ہوں گے۔ اس تزویراتی سرنگ سے گوں نا گوں اقتصادی اور معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔ وادیِ کشمیر اور اس کے راستے لداخ کی سیاحت کو زبردست فروغ ملے گا، جس سے مقامی معیشت کے کئی شعبوں کو غیر معمولی فائدہ پہنچے گا۔ وہ سیاح جو پہلے صرف ہوائی راستے یا منالی کی سمت سے لداخ کا رخ کرتے تھے، اب انہیں وادیِ کشمیر کی دلکش مناظر سے لطف اندوز ہونے کا ایک آسان اور مختصر ترین راستہ دستیاب ہو گیا ہے۔ مزید برآں، دونوں خطوں کے جو تاجر دہائیوں سے آر پار کاروبار سے منسلک ہیں، ان کی تجارتی سرگرمیوں کو ایک نئی جلا اور زبردست وسعت ملے گی۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے حوالے سے بھی زوجیلا ٹنل ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔ نجی شعبہ اب اس پورے روٹ پر سرمایہ کاری کے نئے افق تلاش کر سکتا ہے، جبکہ حکومت بھی یہاں مزید بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ چنانچہ یہ میگا پروجیکٹ دونوں خطوں میں مثبت اور خوش آئند ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ نیو آسٹریئن ٹنلگ میتھڈ (NATM) سے تعمیر ہونے والی اس تاریخی اور اہم ٹنل کو ممکنہ طور پر فروری 2028 میں باعاقدہ گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔ جہاں یہ منصوبہ معاشی ترقی کا ضامن ہے، وہیں اس نازک پہاڑی خطے کے ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانا بھی وقت کی اشد ضرورت ہے۔ اس مہم میں مقامی عوام کا کردار کلیدی ہے۔ اس شاہراہ پر سفر کرنے والے مسافروں اور راستے میں ہوٹل یا دیگر سہولیات فراہم کرنے والے کاروباری افراد، دونوں کو ماحولیاتی حساسیت کا پورا پورا خیال رکھنا ہوگا تاکہ ترقی کا یہ سفر فطرت کے حسن کو متاثر نہ کر سکے۔
������������������������