غلام نبی رینہ
کنگن// جمعہ کو زوجیلا پاس پر زیرو پوائنٹ کے آگے’ دیال سلائیڈ‘ کے قریب دوپہر کوبرفانی تودہ گرنے سے کئی مسافر گاڑیاں برف کے نیچے دب گئیں اور لیہہ شاہراہ بلاک ہوگئی۔بتایا جاتا ہے کہ اس المناک حادثے میں 5افراد کی ہلاکت ہوئی ہے اور 7کو زندہ بچا لیا گیا۔ایس ایس پی گاندربل محمد خلیل پوسوال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شام تک 5لاشیں بر آمد کی جاچکی ہیں، جن میں2 کم عمر لڑکے شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹا برف کا تودا گر آیا تھا اور 4 گاڑیاں برف کے نیچے دب گئیں، جن میں یہ ہلاکتیں ہوئیں۔ایس ایس پی نے کہا کہ بچائو کارروائیوں کے نتیجے میں 7زخمیوں کو برف کے نیچے سے زندہ نکالا گیا اور انہیں فوری طور پر نزدیکی طبی مرکز دراس پر لیجایا گیا جہاں ان کا علاج و معالجہ کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابھی برف کے نیچے کوئی لاش نہیں ہے اور اب مزیدہلاکتوں کا خدشہ بھی نہیں ہے۔ حکام نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ کم از کم تین سے چار گاڑیاں برفانی تودے کی زد میں آ گئیں اور راستے میں بھاری برف جمع ہونے کی وجہ سے مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔بچائو کارروائی کی نگرانی ایس ایس پی گاندربل محمد خلیل پوسوال،ایس ایس پی ٹریفک رول کشمیر آر پی سنگھ، ایس ڈی پی او کنگن، ایس ایچ و سونہ مرگ کررہے ہیں۔یہ واقعہ زوجیلا محور پر جاری خطرات کو ظاہر کرتا ہے، جو کشمیر کو لداخ سے جوڑنے والا ایک اہم پہاڑی درہ ہے، جہاں موسم سرما کے آخر اور موسم بہار کے شروع میں برفانی تودے گرنا عام ہیں۔حکام نے بتایا کہ برفانی تودہ گرنے کے فورا ًبعد بچائوٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، اور برف ہٹانے اور پھنسی گاڑیوں تک پہنچنے کے لیے آپریشن شروع کیا ۔مقامی انتظامیہ اور سڑکوں کی دیکھ بھال کرنے والی ایجنسیوں بشمول BRO کو تعینات کیا گیا ہے، جس کی کوششیں برف کے ملبے کو ہٹانے اور محفوظ انخلا کو یقینی بنانے پر مرکوز ہیں۔حکام نے بتایا کہ برفانی تودہ گرنے کی وجہ سے سڑک کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے جس سے سڑک پر گاڑیوں کی آمدورفت روک دی گئی ہے۔عینی شاہد نے بتایا کہ گاڑیاں جزوی طور پر برف میں دبی ہوئی ہیں، لوگ راستے کو صاف کرنے میں مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔حکام نے مسافروں پر زور دیا ہے کہ جب تک کلیئرنس آپریشن مکمل نہیں ہو جاتا اور حالات کو محفوظ قرار نہیں دیا جاتا تب تک راستے سے گریز کریں۔زوجیلا پاس، اونچائی پر واقع ہے، اکثر برفانی تودے گرنے اور موسم کی اچانک تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتا ہے، جس سے ٹریفک اور ایمرجنسی رسپانس ٹیموں کے لیے چیلنجز پیدا ہوتے ہیں۔ہلاک ہونے والوں کی شناخت ماں بیٹا شہر بانو زوجہ سجاد حسین اور اسکا کم عمر بیٹا اسد اللہ ساکن یولجوک،محمد علی ولد محمد موسیٰ ساکن سانکو،طیبہ بانو زوجہ الطاف حسین ساکن سانگراہ، اورمحمد یوسف ولد غلام علی ساکن ٹنگول شامل ہیں۔زخمیوں میںادیبہ بانو دختر غلام قادر اور اسکی بہن فریدہ بانو ساکن لیہہ، دانش مجید ولد عبدالمجید ساکن پٹن،محمد باقر ولد محسن علی ساکن نیل گرہ،ساجدہ بانو ولد محمد محسن ساکن شمبھوہ،اور حکیمہ خاتون دختر محمد حسن ساکن شمبھوہ شامل ہیں۔