ذہنی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے علم کا ہونا ضروری ہے ۔تعلیم یافتہ معاشروںمیںانسانیت ،اخلاقیت ،مروت ،یکسانیت ،جمہوریت، ہمت و طاقت اور اعتباریت کی وسعت ہوتی ہے۔ جدید دور میں تعلیمی اعتبار سے شہرت حاصل ہوتی ہےکیونکہ ہر مسئلے اور ہر معاملے تعلیم یافتہ لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے۔اس جدید دور میں انسان کی اصل پہچان اُس کی تعلیم اور رہن سہن سے کی جاتی ہے۔کسی کے ساتھ گفت وشنید اُس کے علمی شعور کو مدنظر رکھ کے کی جاتی ہے ۔مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کسی کی ٹھاٹھ باٹھ ،بہترین لباس ،رعب دار آوازسے اُس کو علمی شخصیت مانا جائےبلکہ کسی کی بھی شخص کےعلمی شعورعلمی شعور کا اندازہ اُس کی گفتگو،سلیقہ مندی ،دور اندیشی،اخلاق،خُلق،قوت ِ برداشت ،غیر جانبداری،انصاف پسندی اور یکسانیت سے لگایا جاتا ہے۔یہ بھی ضروری نہیں کہ معاشرے میںوہ نامدار بنا ہوا ہو،یا اُس میں صرف وہی اُس علم سے واقف ہو، جس سے وہ محض دولت اورشہرت حاصل کرچکا ہو،جبکہ سب سے بڑی دولت عزت ہوتی ہے، جس کا تعلیم یافتہ فردمیں ہونا اہم اور ضروری ہے،ورنہ جس کسی تعلیم یافتہ شخص میں کسی قسم کی خرابی ،بُرائی یاغیر اخلاقی اطوار موجود ہوں،اُسے عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا،بلکہ اُسے تو معاشرے میں بُری نظروں سے دیکھا جاتا ہےبلکہ اُس کی کرتوتوں کے تحت غلط القاب سے نوازاجاتا ہے۔جبکہ بعض اوقات اُس کی کھلے عامبے عزتی بھی ہوتی رہتی ہے۔چاہے پھر کیوں نہ وہ اپنے رویوں کو بدل کر اپنی عزت کو بحال کرنے میں کامیاب ہوا ہو۔کیونکہ ہر کسی کی غیر فطری نظریں ہمیشہ آپ پرٹکی رہتی ہیں۔خیر!جس کسی بھی تعلیم یافتہ فرد کی اپنی نیک نیتی ،خلوص ،رواداری،دین داری اور انسانیت کے عوض عزت و شہرت حاصل ہوئی ہو ،وہ اُ س کی آخرت تک ساتھ رہتی ہےاور معاشرے میںہمیشہ اُسے ایک اچھے انسان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔آج کل کے دور میں ہمارے معاشرے ایسے تعلیم یافتہ لوگوں کی کوئی کمی نہیں،جو اِن نیک صفات سے آراستہ ہیں،گویا اُن کی علمی شعور میں کوئی کمی نہیں ہےاور اُن پر کسی طرف سے انگلی اُٹھانے کی کوئی گنجایش بھی نہیںہے۔
معلوم ہوا کہ ہر تعلیم یافتہ فردکے اندر ہرطرح کے علم کا حصول زبردست اہمیت رکھتا ہے،خواه وہ دُنیوی ہو،دینی ہو، یامعاشرتی ۔ ظاہر ہے کہ انسان میں اخلاق کا ہونا بھی ایک علم ہی ہے۔یہ مت سوچیں کہ اگر آپ کے بل میں تعلیمی علم حاصل ہے اور آپ ایک کامیاب انسان بن چکے ہیںلیکن دوسرے اوصاف سے محروم ہیں،تو اس غلط فہمی میں مت رہیں کہ آپ تعلیم یافتہ ہیں ہے،کیونکہ آپ میں اور کسی غیر تعلیم یافتہ میں فرق ہی کیا ہے۔اس لئے معذرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خدارا! اپنے تعلیم یافتہ ہونے کی غلط فہمی دور کیجئے گااور قطعاً اس گمان میں نہ رہئےکہ تعلیم حاصل کرکے ہم نے کوئی بڑی کامیابی پائی ہے۔کیونکہ کامیابی پانے کے لیے آپ میں علمی اور اخلاقی دونوں طرح کے وصف کا ہونا معاشرے کے لئے اہمیت رکھتا ہے۔علم واخلاق اور دین داری میں ہی قوم اور معاشرے کی فلاحی کا انحصار ہوتا ہےاور وہی معاشرہ فلاح پاتا ہے جس میں یہ اوصاف موجود ہوں۔علمی شعور کے ہوتے ہوئے بھی اخلاقیت کی محرومی معاشرے کو تباہ و برباد کردیتی ہے۔ہوسکتا ہے کہ آپ اسبات سے متفق نہ ہوںمگر تاریخ میں اس کےبے شمار حقائق موجود ہیںکہ ایسی تعلیم یافتہ قومیں جو بددیانتی ،بے ایمانی ،بے شرمی ،جھوٹ،شہرت پرستی ،مفاد پرستی ،تکبر،اَنّا،گمنڈمیں سرشار تھیں ،نیست و نابود ہوکر رہ گئیں۔قوم و معاشرے میں نام کو پانے کے لیے آپ میں دنیوی علم کے ساتھ دینی علم کا ہونا لازمی ہے ۔دینی تعلیمات پر عمل کرنے سے ہی آپ میں وہ تمام اوصاف پیدا ہوں گے جو ااپ کو دنیا اور آخرت میں کامیاب ثابت کرسکتے ہیں۔ معاشرے میں اِن دونوں کا امتزاج آپ کو ایک کامیاب انسان بنا سکتا ہے ۔اگر آپ تعلیم کے لحاظ سے بلکل ناخواندہ ہے لیکن آپ میں اخلاقیت ،دین داری ،سچائی ،ہمدردی اور نرم روی موجود ہے تو ہم آپ اُس تعلیم یافتہ فرد سے بہتر اور افضل ہیں جو اِن اوصاف ِ حمیدہ سے محروم ہے۔ آج کے جدید دور میں کچھ لوگوں میں یہ نظریہ بھی پایا جاتاہے کہ اگر کسی فرد میں دنیاوی علم کی کمی ہے تو اُس میں اخلاقیت و انسانیت کے اوصاف ہوتے ہی نہیں۔نہ معلوم وہ کن نظریات کے تحت ایسا سوچتے ہیں،شائد اُن کی عقل پر دنیاوی شہرت ،دولت اور اپنے تعلیمی گُمنڈکاپردہ پڑا ہوا ہے۔ ہمیں اِس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اخلاقیت اور انسانیت کا درس ہمیں پیداہونے کے بعد سب سے پہلے اپنے والدین (اگرچہ وہ تعلیم یافتہ نہ بھی ہوں) سے ہی ملتی ہے اور پھر اپنے اساتذہ یا مدرس سے حاصل ہوجاتی ہے۔گویا علم و اخلاق کا درس پانے میںپہلا رول والدین کا ہوتا ہےلیکن ہمارےاساتذہ یا مدرس ہی ہمارے اہم رہبر و رہنما بن جاتے ہیں،جو ہمارے لئے فلاح و بہبودی کے دروازے وا کرتے ہیں۔
ہاں!یہاں یہ بات کرنا بھی لازم بنتی ہے کہ کسی کی تعلیمی ڈگریوں کو دیکھ کر کوئی بھی یہ فیصلہ نہ کرےکہ وہ اچھا ہے یا برا۔ بلکہ ہمیں چاہئے کہ ہم اُسے ہر طرح سے پرکھیں، خواہ وہ ادب سے تعلق رکھتا ہو، سماجی بہبود کے کام کرتا ہو، دینی فرائض انجام دیتا ہو یا کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری شعبے کے ساتھ وابستہ ہویا تاجر ہو۔اگر اخلاقیات سے بالکل عاری ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ کسی اَن پڑھ سے بھی گیا گذرا ہے۔ تعلیم حاصل کرکے چاہے آپ ڈاکٹر ہو،انجینئر ،اعلیٰ افسر ہو یا ادنیٰ ملازم۔آپ کو توقوم اور معاشرے کے افراد کے ساتھ ہی کام کرنا ہے۔اس لئے آپ میں انصاف،اخلاص، ہمدردی ، جذبۂ انسانیت ،مساوات ،دین داری اورنرم روی کا ہونا بےحد ضروری ہے۔ہمیں اس نظریہ کو معاشرتی زندگی میں عام کرنا چاہئے اور اسےہر معاملہ میں اپناناچاہئے ۔ایک پڑا لکھا شخص اپنے علم کے بل بوتے پر سب کچھ حاصل کرسکتا ہے لیکن اُس میں عام لوگوں کے لئےادب و احترام،اخلاص،ہمدردی اور انسانیت نام کی کوئی چیز موجود نہ ہو تو ہم صرف یہی کہہ سکتےہیں کہ وہ ایک ایسانامکمل انسان ہے،جس کا ذہنی توازن بگڑ چکا ہے ۔ جبکہ معاشرتی زندگی میں ان اوصاف کا ہونا ہر ذی حِس فرد کے لئے ضروری ہے۔
(بانڈی پورہ گریز،موبائل نمبر:6006622656)