زمزم و فرات و انا ساغر اور شہادت حسین ؓ

یہ دنیا عجیب ہے اور دنیا کے لوگ عجیب ہیں بات بات پر اعتراض کرتے ہیں اور اعتراض کرنے والوں کے انداز اعتراض سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا نظریہ کیا ہے، ان کا مقصد کیا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ ہر اعتراض کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے یہاں تک کہ جب اللہ ربّ العالمین نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق فرمائی تو فرشتوں نے اعتراض کیا لیکن جب اللہ تعالٰی نے کہا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے تو فرشتے مطمئن ہوگئے، جب آدم علیہ السلام کا پتلا تیار ہو گیا تو حکم الٰہی ہوا کہ سجدہ کرو تو ابلیس نے اعتراض کیا کہ میں آگ سے پیدا ہوں اور آدم مٹی سے اس لئے میں سجدہ نہیں کرسکتا اور فرشتوں نے سجدہ کیا،، تو اللہ تعالیٰ نے عزازیل سے سارا منصب چھین لیا اور اس کے گلے میں لعنت کا طوق ڈال دیا۔ یاد رہے کہ سجدہ کرنے کا حکم جب اللہ تعالیٰ نے دیا تو فرشتوں نے اعتراض نہیں کیا بلکہ ایک سجدہ حکم خداوندی بجا لانے کے لئے کیا اور دوسرا سجدہ حکم خداوندی بجا لانے کی خوشی میں شکرانے کے طور پر کیا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے اپنا خواب بیان کیا تو اسماعیل علیہ السلام نے کوئی اعتراض نہیں کیا کیونکہ باپ اور بیٹا دونوں اللہ کے نبی ہیں۔ جب ایک مسلمان کو یہ معلوم ہے کہ نبی کا خواب عام خواب نہیں ہوا کرتا بلکہ ایک نبی کا خواب وحی الٰہی ہوا کرتا ہے تو ایک نبی کا خواب دوسرا نبی کیسے نہیں سمجھ سکتا، چنانچہ حضرت اسماعیل علیہ السلام سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ امتحان ہے گویا بیٹے نے رضا مندی ظاہر کی والد محترم سے کہا کہ اللہ کی طرف سے جو حکم ہوا ہے آپ اسے پورا کیجئے، انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ اس موقع پر بھی شیطان نے ہی اعتراض کیا تھا، ابراہیم علیہ السلام کی باتوں پر نمرود کو اعتراض، ایوب علیہ السلام کے صبر ہ شکر پر ابلیس کو اعتراض، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت و تبلیغ پر فرعون کو اعتراض اور نمرود، ہامان، قارون اور شداد کو خدا کی خدائی پر اعتراض غرضیکہ اعتراض کی عمر بھی بڑی لمبی ہے۔ واضح رہے کہ اعتراض کرنا غلط نہیں ہے، مگر حق کا انکار کرنا غلط ہے۔ اس لئے اعتراض کرنے سے پہلے یہ سوچنا اور غور کرنا ضروری ہے کہ ہمارا اعتراض حق بجانب ہے کہ نہیں۔ اگر حق بجانب ہے تب تو ٹھیک ہے ورنہ حق بات پر ہی اعتراض کرنا تو حقائق سے چشم پوشی ہے بلکہ حق کا انکار ہے اور اس کا انجام برا ہوتا ہے۔ بوجہل و بولہب کو خاتم الانبیاء پر اعتراض تھا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا آج تک دونوں پر لعنت بھیج رہی ہے ،یہاں تک کہ کوئی اپنی اولاد کا نام بھی ابو جہل و ابو لہب رکھنا گوارا نہیں کرتا۔ اعتراض کی دنیا میں سب سے ٹھوس اعتراض حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے ،جب فاسق و فاجر یزید تخت نشین ہوا تو اس نے امام حسینؓ سے بیعت کرنے کو کہا تو امام حسینؓ نے اس کی بیعت پر اعتراض بھی کیا اور انکار بھی کیا ۔یہاں امام حسین کا اعتراض حق بجانب تھا کیونکہ حسین اپنےنانا کے دین کے محافظ تھے، وہ کیسے یزید کی بیعت کرتے، جس کے نتیجے میں معرکہ کربلا پیش آیا اور امام حسینؓ کی شہادت ہوئی اور بظاہر بھلے ہی کسی کو یوں لگتا ہو کہ یزید جنگ جیت گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یزید جنگ ہارا ہے، اس کے مشن کی ہار ہوئی، اس کا غرور خاک میں مل گیا، اس پر بھی لعنت و ملامت کا سلسلہ شروع ہوا جو آج بھی جاری ہے ۔لیکن افسوس مسلمانوں نے جہاں کتاب و سنت، تقریر و تحریر، جلسہ و جلوس، عبادت و طریقۂ عبادت پر اعتراض و اختلافات کا اظہار کیا اور قائم کیا وہیں کچھ لوگ یہاں تک جرأت کر بیٹھے اور کہنے لگے کہ جب پہلے ہی سے امام حسین ؓکی شہادت کی شہرت ہوچکی تھی تو رسول اللہؐ نے اپنے نواسے کو کیوں نہیں بچا لیا، حالانکہ اس سوال اور اعتراض کا جواب خود ان کے اعتراض میں ہی موجود ہے اور وہ جواب یہ ہے کہ جو شخص جس نبی کا کلمہ پڑھے، اُسی نبیؐ پر ایسا سوال اور اعتراض کرنےکی جرأت کرسکتاہے تو وہ اس حد تک بھی جاسکتاہے کہ اگر نبیؐ دعا کرکے حسین کو قتل ہونے سے بچا لیتے تو وہی لوگ طنز کستے کہ جب اپنے نواسے کے گلا کٹانے کی باری آئی تو دعا کرکے نبی نے بچا لیا (نعوذباللہ من ذالک) اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت دے انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ میرا نواسہ کربلا میں فرات کے کنارے پیاسا اس لئے شہید ہوگا کہ ہمارےہی خاندان کے بچے کی ایڑی رگڑنے سے نکلنے والے آب زمزم کا تقدس باقی رہے ، ہماری خاندان کے ابراہیم و اسماعیل علیہم السلام کے ذریعے تعمیر کئے گئے خانۂ کعبہ کا تقدس باقی رہے، اب یہاں بھی کہا جاتا ہے کہ امام حسینؓ فرات سے پانی کیوں نہیں پی سکے، اس لئے کہ وہ مجبور تھے، نہیں ہرگز نہیں۔ امام حسین مظلوم تھے مگر مجبور نہیں تھے، وہ چاہتے تو دریائے فرات ان کے خیمے سے آکر لگ جاتا، وہ چاہتے تو دریائے فرات خشک بھی ہوجاتا، یہ تو دریائے فرات کی بدنصیبی ہے کہ وہ میرے امام پاکؓ کے لبوں سے نہیں لگ سکا ورنہ وہ بھی تبرک ہو جاتا یعنی دریائے فرات خود ترس گیا لب ِحسین کو، اور پیاس و پانی کا سارا معاملہ واضح ہوتاہے۔ حضرت امام علی اصغر کے حالات سے اور پرورش سے بڑے بڑے علماء و خطباء و فقہاء و محدثین نے معرکہ کربلا بیان بھی کیا ہے اور تحریر بھی کیا ہے مگر کسی نے یہ نہیں بیان کیا کہ علی اصغر کو خیمے میں زمین پر سلایا گیا جبکہ سارے حسینی قافلے والے زمین پر ہی سوتے تھے مگر حسینؓ جھولے میں رہتے تھے، کبھی ام رباب کی گود میں تو کبھی سیدہ زینب کی گود میں مگر زمین پر نہیں کیونکہ اس بات کا اندیشہ تھاکہ کہیں پیاس کی شدت سے علی اصغر ایڑیاں نہ رگڑیں ، کہیں قدرت کو جلال نہ آجائے، کہیں دریائے رحمت جوش میں نہ آجائے اور کہیں دوسرا زمزم کربلا میں نہ نکل آئے کیونکہ یہ چشم و چراغ بھی اسی خاندان کا ہے جس خاندان کے چشم و چراغ کی ایڑیوں کے نیچے سے آب زمزم نکلا ہے اور عالم اسلام کے لئے تبرک اور عالم انسانیت کے لئے نفع بخش بنا ہوا ہے۔ سرزمین اجمیر پر جب غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے قدم پڑے تو انہیں ستانے کا سلسلہ شروع ہوا، یہاں تک کہ آنا ساغر پر پہرہ بٹھا دیا گیا سب کو پانی مل سکتاہے لیکن خواجہ کو نہیں، اور خواجہ کے چاہنے والوں کو بھی نہیں، تو خواجہ اپنے ایک چاہنے والے کے ہاتھ میں کٹورا دیکر کہا کہ جاؤ تالاب کے کنارے کٹورا رکھ کر کہنا کہ چل تجھے خواجہ نے بلایا ہے، ایک کٹورا پانی لیکر آئے اور تالاب خشک ہوتے ہوتے بلکل سوکھ گیا۔ اب وہی لوگ منتیں اور سفارشیں کررہے ہیں جو خواجہ غریب نواز کو پانی دینے سے انکار کر رہے تھے، خواجہ نے کٹورے کا پانی تالاب میں واپس ڈالنے کو کہا نتیجہ یہ ہوا کہ تالاب پانی سے لبالب ہوگیا۔ حضرت عباس پانی لیکر آرہے تھے تو دشمنوں نے تیر و تلوار سے حملہ کرکے شہید کردیا پھر بھی امام حسینؓ نے پانی کے لئے دعا نہیں کیا خواجہ غریب نواز سے کہیں زیادہ مقام ومرتبہ میں بلند امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ پیغام دیا کہ آنے والی نسلیں اس بات سے واقف رہیں کہ دین کو بچانے کے لئے صبر و استقامت کی ضرورت ہوا کرتی ہے اور دین کو پھیلانے کے لئے کرامت کی ضرورت ہوا کرتی ہے اور امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صبر و استقامت کی ایسی مثال قائم کی کہ آج ہر قوم پکار رہی ہے کہ ہمارے ہیں حسینؓ ہمارے ہیں حسینؓ۔