’زاہد منظور کو پیلٹ سے زخمی کرنابربریت‘

سرینگر//حریت (ع) ، پیلٹ وکٹمز ایسوسی ایشن اور اسلامک پولیٹکل پارٹی وفود نے پیلٹ سے کئے گئے زخمی طالب علم زاہد منظور کی صدر ہسپتال جاکر عیادت کی۔ اس دوران حریت (گ) اور اسلامک پولٹیکل پارٹی نے فورسز کی کارروائی کی مذمت کی۔ حریت (ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کی ہدایت پر صوفی مشتاق احمد، محمد شفیع خان،پیر غلام نبی اورفارق احمد سوداگرپر مشتمل وفد صدر ہسپتال گیا جہاں انہوں نے زاہد منظور کی عیادت کی اور اس کے والدین کیساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔وفد کو بتایا گیا کہ زاہد منظور11 ویں جماعت کا طالب علم ہے اور امتحان سے لوٹ کر جب وہ گھر کی طرف واپس لوٹ رہا تھا تو فورسز نے اس پر پلٹ کی برسات کی جس کی وجہ سے سرجری کے دوران ایک گردہ نکالنا پڑا اور اس کی حالت اب بھی مستحکم نہیں ہے۔ادھر پیلٹ وکٹمز ایسوسی ایشن کا ایک وفد ،جس میںالطاف احمداورجنید احمد شامل تھے، نے ہسپتال جاکر زاہد منظور کی عیادت کی اور صحت یابی کیلئے دعا کی ۔ترجمان نے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ کشمیر میں پیلٹ گن اور دوسرے مہلک ہتھیاروں پر پابندی عائد کرنے کیلئے بھارتی حکومت پر اپنا اثر رسوخ استعمال کریں۔اس دوران اسلامک پولیٹکل پارٹی کا ایک وفدجس میں محمد ایوب ڈار، نذیر احمدبٹ ، مظفر احمد بٹ، سجاد احمد لون وغیرہ شامل تھے ،نے صدر اسپتال جاکر زاہد منظورکی عیادت کی اور اس کے والدین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔اسلامک پولیٹکل پارٹی چیئرمین محمد یوسف نقاش نے کہا کہ اس واقعہ سے ایک بار بھر فوج کی یہاں کے نوجوانوں اور بچوں کے تئیں ظالمانہ پالیسی کی پول کھل گئی۔ انہوں نے کہا کہ طاقت اور تشدد کے استعمال سے یہاں کی لوگوں کی تحریک آزادی کے تئیں جد وجہد کو کسی بھی صورت میں کمزور نہیں کیا جاسکتا۔ حریت (گ) نے زاہد منظور کو نواکدل میں فورسز کی جانب سے نزدیک سے پیلٹ فائر کرنے اورسینکڑوں چھرے اس کے جسم میں پیوست کرنے کی کارروائی کو سفاکیت اور بربریت سے بدتر قرار دیا۔۔ حریت (گ)نے امن کے ان پیامبروں کو ، جو پرنٹ میڈیا، ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا پر مظلومین کو بد امنی کے ذمہ دار گردان کر سبق پڑھاتے پھرتے ہیں کو چلو بھر پانی میں ڈوبنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ امن کی آڑ میں بھارت کے ظلم وجبر کا دیو جموں کشمیر کی سرزمین پر انسانیت کا تاراج کررہا ہے۔   انہوں نے کہا ماضی کی طرح کشمیری عوام بیش بہا قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں جب تک کہ مسئلہ کشمیر کا حل یہاں کے لوگوں کی خواہشات ک عین مطابق نہیں ہوتا۔