ٹی ای این
سرینگر//ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ریزرو بنک آف انڈیا فی الحال شرحِ سود میں اضافے کے لیے جلد بازی کے موڈ میں نظر نہیں آتا اور امکان ہے کہ شرحِ سود بڑھانے کا کوئی بھی فیصلہ مالی سال 2026-27 کے دوسرے نصف حصے تک مؤخر کر دیا جائے۔ ابتدائی طور پر بعض ماہرین توقع کر رہے تھے کہ آر بی آئی اگست میں ہونے والے مانیٹری پالیسی جائزے کے دوران شرحِ سود میں اضافہ کر سکتا ہے، تاہم تازہ معاشی حالات، افراطِ زر کی موجودہ سطح اور مانسون کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ توقعات کمزور پڑ گئی ہیں۔ اب زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ مرکزی بینک مزید وقت لے کر حالات کا جائزہ لینا چاہے گا۔ ماہرین کے مطابق مانسون کی کارکردگی اس فیصلے میں کلیدی کردار ادا کرے گی کیونکہ اچھی بارش زرعی پیداوار میں اضافے اور غذائی افراطِ زر کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر خوراک کی قیمتیں قابو میں رہتی ہیں تو آر بی آئی پر شرحِ سود بڑھانے کا دباؤ بھی کم رہے گا۔
حال ہی میں آر بی آئی کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے ریپو ریٹ کو 5.25 فیصد پر برقرار رکھا تھا اور ’’انتظار کرو اور دیکھو‘‘ کی حکمتِ عملی اپنانے کا عندیہ دیا تھا۔ مرکزی بینک کا موقف ہے کہ عالمی غیر یقینی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور روپے پر دباؤ کے باوجود افراطِ زر ابھی اس حد تک نہیں پہنچی کہ فوری طور پر شرحِ سود میں اضافہ ضروری ہو۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے، روپے کی قدر مزید گرتی ہے یا افراطِ زر توقعات سے زیادہ بڑھتی ہے تو آر بی آئی مالی سال 2026-27کے دوسرے نصف میں شرحِ سود بڑھانے پر غور کر سکتا ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں مرکزی بینک اقتصادی نمو کو سہارا دینے اور معاشی استحکام برقرار رکھنے کو ترجیح دیتا دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق آر بی آئی کی آئندہ پالیسیوں کا انحصار مہنگائی، مانسون، عالمی تیل منڈی اور روپے کی کارکردگی پر ہوگا، جبکہ موجودہ اشارے یہی بتاتے ہیں کہ شرحِ سود میں کسی بھی اضافے کا امکان فوری طور پر نہیں بلکہ مالی سال کے دوسرے نصف حصے میں زیادہ ہے۔