ریسرچ میتھاڈالوجی:سنٹرل یونیورسٹی میں ورکشاپ | وائس چانسلر نے تحقیق کو اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا

گاندربل//سنٹرل یونیورسٹی کشمیرکے وائس چانسلر پروفیسر معراج الدین میر نے بزنس اسٹڈیز سوشل سائنسز ، میڈیا اور لیگل شعبوں میں اسکالروں کے لئے دو ہفتوں سے چلنے والے ’’ریسرچ میتھاڈالوجی ورکشاپ‘‘کا افتتاح بدھ کے روز گرین کیمپس گاندربل میں شروع کیا۔اس موقع پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر نے تحقیق کو اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اور اچھے تحقیقی طریقہ کار کو اپناتے ہوئے معیاری تحقیق کا ایک اہم جزو قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ’’دنیا بھر کی یونیورسٹیاں بنیادی ڈھانچہ یا ان کے پیش کردہ پروگراموں کی تعداد سے نہیں معلوم ہوتی ہیں بلکہ وہ ہر سال تحقیق کے معیار سے پیدا ہوتی ہیں‘‘۔وائس چانسلر نے مزید کہا کہ آج کی تحقیق کل کی انسانیت بناتی ہے۔پروفیسر معراج الدین میر نے مزید کہا کہ کسی بھی تحقیق کا نتیجہ معاشرے پر اس کے فائدے کیلئے لاگو ہونا چاہئے۔ انہوں نے بین الضابطہ نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اگر تحقیق کو معاشرے کے فائدے کے لیے استعمال نہ کیا جائے تو صرف ڈگری حاصل کرنے میں کوئی لطف نہیں ہے۔ انہوں نے ورکشاپ کے انعقاد پر شعبہ ڈائریکٹوریٹ آف ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کی تعریف کی اور ریسرچ اسکالروں کو مشورہ دیا کہ وہ انتہائی تجربہ کار ماہرین سے سیکھیں اور فائدہ اٹھائیں جو ان 14 دنوں کے دوران لیکچر دیں گے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رجسٹرار پروفیسر ایم افضل زرگر نے اس طرح کی ورکشاپس کے انعقاد کی اہمیت پر روشنی ڈالی جو کہ مستقبل میں ان کے باقاعدہ انعقاد کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی موضوع یا میدان میں تحقیق کرنے والے اسکالروں کو تحقیق کے طریقہ کار میں استعمال ہونے والے اوزار اور تکنیک سے اچھی طرح واقف ہونا چاہیے تاکہ معیاری تحقیق کی جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’تحقیق کی اخلاقی اقدار کی سختی سے پابندی بھی معیاری تحقیق کے لیے ضروری ہے‘‘۔پروفیسر زرگر نے کہا کہ تدریس سیکھنے کے عمل میں تحقیق ایک اہم پہلو ہے اور کامیاب تحقیق کے لیے مناسب تحقیقی طریقہ کار اپنانا ضروری ہے۔شعبہ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے سربراہ پروفیسر فاروق اے شاہ نے تحقیق کرنے والے اسکالرز کی نئی کھیپ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ معیاری تحقیق کی تیاری کے لیے یونیورسٹی کو محققین کی صلاحیتوں کو مسلسل صلاحیت اور آپ گریڈ کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے تحقیقی موضوع کو اچھی افادیت کے ساتھ منتخب کرنے کی اہمیت کو مزید واضح کیا اور اس کے بارے میں نگران کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے تحقیق کی اہمیت کے بارے میں بھی بتایا کہ کس طرح نتیجہ خیز تحقیق انفرادی ، ادارہ جاتی ، معاشرتی سطح کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر بھی ترقی کا باعث بنتی ہے۔ڈاکٹر خالد وسیم حسن ، ورکشاپ کوآرڈینیٹر اور اسسٹ پروفیسر ڈیپارٹمنٹ آف پولیٹکس اینڈ گورننس نے ورکشاپ کی کارروائی انجام دی جبکہ بطور اسسٹنٹ پروفیسر ڈیپارٹمنٹ آف مینجمنٹ سٹڈیز محترمہ انشا فاروق نے شکریہ کی تجویز پیش کی۔