ریت بجری کا غیر قانونی اخراج : آبی ذخائر اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا احتمال

 راجوری //غیر قانونی اور غیر سائنسی طریقہ کار اختیار کرکے ندی نالوں سے نکالی جارہی ریت اور بجری کی وجہ سے آبی ذخائر اور محکمہ پی ایچ ای کے ڈھانچے کو بری طرح سے متاثر کیاہے جبکہ متعلقہ حکام نے اس پر مجرمانہ نوعیت کی خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ذرائع کے مطابق راجوری میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی و غیر سائنسی طریقہ کار سے ریت بجری کا اخراج عمل میں لایاجارہاہے جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوسکتی ہے۔ذرائع نے بتایاکہ اس سلسلے میں حکام کو بھی کئی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ذرائع کاکہناہے کہ ریت بجری کے غیرقانونی اخراج سے کئی اثاثے تباہ ہورہے ہیں اور محکمہ پی ایچ ای کے ڈھانچے کو نقصان پہنچ رہاہے۔ذرائع نے بتایاکہ گھمبیر براہمناں سے لیکر سندر بنی تک جگہ جگہ ریت اور بجری کیلئے کھدائی کی جارہی ہے اور اس عمل میں قانونی تقاضوں کا خیال ہی نہیں رکھاجارہا۔نالے کے بیچ اور کناروں پر مشینری اور افرادی قوت کو لگاکر ریت و بجری نکالی جارہی ہے اور پھر اسے فروخت کیاجارہاہے۔ذرائع کاکہناہے کہ اس غیر قانونی کاروبار کی سنگینی کااندازہ اس بات سے ہوتاہے کہ کرشر موڑ ٹنڈوال سے دیریاں تک دریائے سکتو میں پانچ سو میٹر تک کھدائی کی گئی ہے جس سے آنے والے دنوں میں پمپنگ اسٹیشن کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے جبکہ دیگر ڈھانچوں کے ساتھ ساتھ ٹنڈوال پل کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتاہے۔واضح رہے کہ اسی کاروبار کے خلاف کارروائی کرنے کے حوالے سے گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر راجوری کی سربراہی میں ایک میٹنگ منعقد کی گئی جس دوران کریک ڈائون لگانے کے منصوبے کا جائزہ بھی لیاگیا۔وہیں راجوری کے لوگوں نے مانگ کی کہ اس بارے میں تحقیقات کی جائیں کہ اس دھندے میں کون افسران ملوث رہے ہیں۔ان کاکہناہے کہ اس سے ماحولیات کا جنازہ نکل گیاہے اور قدرتی ذرائع تباہ ہورہے ہیں۔دریں اثناضلع انتظامیہ راجوری نے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کارروائی کا اشارہ دیاہے۔ضلع انتظامی? نے اس حوالے سے محکمہ ایریگیشن و فلڈ کنٹرول کو ہدایت دی ہے کہ غیر قانونی طور پر کام کررہی گاڑیوں کو ضبط کیاجائے۔ضلع انتظامیہ کے مطابق غیر قانونی طور پر اس عمل سے جڑے افراد پر پی ایس اے عائد کرکے کارروائی کی جائے گی۔