ریاست کے مجموعی مفادات مقدم

سرینگر//عمر عبداللہ اور محبوبہ کی طرف سے ریاست کی خصوصی پوزیشن کو درپیش خطرات پر تشویش کے اظہار اور اس کے توڑ کیلئے اتحاد کی خواہش کے رد عمل میں غلام حسن میر ، حکیم محمد یاسین اور انجینئر رشید نے علاقائی جماعتوں کے وسیع اتحاد کی پیشکش کی ہے ۔ سرینگر میں تینوں لیڈروں کے درمیان دو گھنٹے تک طویل مشاورت کے بعد جاری کردہ ایک اخبار بیان میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ جہاں ایک طرف ریاست انتہائی نازک دور سے گذر رہی ہے وہاں یہاں کی ہم خیال علاقائی سیاسی جماعتوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور ریاست کے لوگو ں کے تئیں اپنے فرائض نبھائیں۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ’’ریاست کے دو سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کی طرف سے ریاست کی خصوصی پوزیشن کو لاحق خطرات سو فیصدی درست ہیں اور اگر خلوص دل سے یہ دونوں جماعتیں چاہتی ہیں کہ کشمیر نواز طاقتیں کاغذی بیانات کے بجائے عملاً ایک ہو کر ریاست کے مجموعی حقوق کیلئے جد و جہد کریں۔ جہاں محبوبہ مفتی کی طرف سے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہونے کی دعوت پر غور کرنے کی ضرورت ہے وہاں عمر عبداللہ کا یہ فرمانا بھی درست ہے کہ کشمیریوں کے ووٹ تقسیم ہوتے ہیں ۔حالات یہاں سرحدوں پر بھی نہایت پریشان کن ہیں وہاں ریاست کو حاصل خصوصی تشخص ، مار دھاڑ اور دھونس دبائو کی پالیسیاں قابل مذمت ہیں اور ایسے میں لازمی ہے کہ سیاسی جماعتیں کم از کم مشترکہ پروگرام پر متفق ہو کر ریاست کی خصوصی پوزیشن کو بچانے کیلئے آگے آئیں ‘‘۔ بیان کے مطابق تینوں لیڈروں نے تجویز دی ہے کہ آنے والے انتخابات این سی ، پی ڈی پی اور دیگر علاقائی جماعتیں مشترکہ طور سے انتخابات لڑیں تاکہ کشمیریوں کے ووٹ بٹنے سے بچ جائیں ۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر ایسا وسیع اتحاد عمل میں لایا جاتا ہے تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ یہ اتحاد کسی فرقہ یا علاقہ کے خلاف ہے بلکہ اس اتحاد کا مقصد پوری ریاست کی سالمیت اور ریاست کو حاصل خصوصی مقام کا تحفظ کرنا ہونا چاہئے ۔