دوہرے نظام کے باعث انتظامی رکاوٹیں، فیصلوں میں تاخیر اور ترقیاتی منصوبوںمیں غیر ضروری مشکلات:سریندر چودھری
عظمیٰ نیوزسروس
جموں //جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئررہنما اور نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے جمعرات کو کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس دینا محض ایک سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ جمہوریت کے تحفظ، مؤثر طرزِ حکمرانی اور خطے کی ہمہ جہت ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ ضلع سانبہ کے بڑی برہمناں، وجے پور اور سانبہ، جبکہ ضلع کٹھوعہ کے ہیرانگر میں عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئےسریندر چودھری نے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی میں گزرنے والاہر دن جموں و کشمیر کے مستقبل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے کہا’’مسلسل تاخیر نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کرے گی، کیونکہ اس سے ترقی کی رفتار سست ہوگی، جمہوری ادارے کمزور ہوں گے اور طرزِ حکمرانی میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگی‘‘۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک حساس سرحدی خطہ ہے جس کی سٹریٹجک اہمیت بے حد زیادہ ہے اور یہ دنیا بھر میں ایک مشہور سیاحتی مقام بھی ہے۔ ایسے منفرد خطے کو ایک مکمل اختیارات رکھنے والی، جمہوری طور پر منتخب حکومت ملنی چاہیے جو عوام کے بہترین مفاد میں آزادانہ فیصلے کر سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دوہرے اختیارات کے نظام، جس میں اختیارات منتخب حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کے درمیان تقسیم ہیں، کے باعث انتظامی رکاوٹیں، فیصلوں میں تاخیر اور ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد میں غیر ضروری مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔سریندر چودھری نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام نے بے شمار مشکلات کے باوجود انتخابات میں حصہ لے کر جمہوریت پر اپنے اعتماد کا بارہا اظہار کیا ہے۔ ان کے جمہوری مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے جلد از جلد مکمل ریاستی درجہ بحال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی درجے سے مسلسل محروم رکھنا آئین کی روح اور بھارت کے وفاقی جمہوری نظام سے مطابقت نہیں رکھتا۔انہوں نے بتایا کہ ان کی جماعت اور اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں نے 20جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ایک بھرپور احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مرکزی قیادت کو ریاستی درجے کی فوری بحالی کی یاد دہانی کرائی جا سکے۔ انہوں نے جموں کے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ 12جولائی کو مہاراجہ ہری سنگھ پارک، جموں میں منعقد ہونے والے عوامی اجتماع میں شرکت کریں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر جموں رتن لال گپتا نے کہا کہ وہ مرکزی حکومت کو ریاستی درجے کی بحالی سے متعلق اس کے بار بار کیے گئے وعدے یاد دلاتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ان وعدوں کو مزید تاخیر کے بغیر عملی جامہ پہنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی سے جمہوری ادارے مضبوط ہوں گے، انتظامی جوابدہی میں اضافہ ہوگا، سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، سیاحت ترقی کرے گی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور جموں و کشمیر کے تمام علاقوں میں متوازن اور ہمہ گیر ترقی یقینی بنائی جا سکے گی۔رتن لال گپتا نے زور دے کر کہا کہ ریاستی درجے کا مطالبہ کسی ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات، وقار اور عزتِ نفس کی ترجمانی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کو قومی مفاد اور اپنے آئینی و جمہوری وعدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید تاخیر کیے بغیر مکمل ریاستی درجہ بحال کرنا چاہیے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ 12جولائی کو صبح 10:30بجے مہاراجہ ہری سنگھ پارک، جموں، فارچیون ہوٹل کے قریب دریائے توی کے کنارے منعقد ہونے والی عظیم الشان ریلی میں بھرپور شرکت کریں۔