نمائندہ عظمیٰ
جموں//کانگریس لیڈر راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ریاستی درجے کی بحالی جموں و کشمیر کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور کانگریس اس کی بحالی کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گی۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں بے روزگاری کی شرح سب سے زیادہ ہے۔موصوف لیڈر نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روزبھارت جوڑو یاترا کے سلسلے میں ستواری چوک میں لوگوں کے ایک ہجوم سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا’’کانگریس پارٹی آپ اور آپ کے ریاستی درجے کے مطالبے کو بھر پور سپورٹ کرے گی‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ کانگریس جموں کشمیر کے ریاستی کے درجے کی بحالی کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گی‘‘۔راہل گاندھی نے کہا’’ریاستی درجے جیسا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے آپ کا حق چھینا گیا ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’لوگوں نے مجھے بتایا کہ انتظامیہ ان کی طرف توجہ نہیں دیتی ہے باہر کے لوگ یہاں کے سارے امور چلا رہے ہیں جبکہ مقامی لوگ مجبور ہو کر دیکھ رہے ہیں‘‘۔موصوف لیڈر نے کہا کہ ملک میں سب سے زیادہ بے روزگاری جموں وکشمیر میں ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان ڈاکٹر، انجینئر، وکیل بننا چاہتے ہیں کہ لیکن انہیں ایسا لگتا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرسکیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے بے روزگاری کو دور کرنے کا ایک ذریعہ تھا اور وہ فوج کے ساتھ تھا لیکن اب اس کو بھی اگنی ویر سکیم کے ذریعے بند کر دیا گیا ہے۔کشمیری پنڈتوں کے بارے میں راہول گاندھی نے کہاکہ موجودہ ایل جی انتظامیہ اْن کے مسائل حل کرنے میں پوری طرح سے ناکام ثابت ہو گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایل جی منوج سنہا کو کشمیری پنڈتوں سے معافی مانگنی چاہئے کیونکہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کوکرنا ہے تاہم وہ اس میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔اْن کے مطابق پچھلے چھ ماہ سے کشمیری پنڈت مسلسل احتجاج پر بیٹھے ہوئے لیکن حکومت اْن کی اور کوئی توجہ مبذول نہیں کر رہی جو حیران کن ہے۔راہول گاندھی نے کہاکہ کشمیری پنڈتوں کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے۔انہوں نے ایل جی منوج سنہا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ کشمیری پنڈت اپنا حق مانگ رہے ہیں جو اْن کو ملنا ہی چاہئے۔کانگریس لیڈر نے مزید کہاکہ جموں وکشمیر کے موجودہ حالات سب کے سامنے عیاں ہیں،یہاں پر لوگوں کو طرح طرح کے مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں ملک میں واحد ریاست ہے جہاں بے روزگاری کی شرح کافی زیادہ ہے۔اْن کے مطابق موجودہ انتظامیہ بے روزگارتعلیم یافتہ نوجوان کو نوکریاں اور روزگار فراہم کرنے فی الحال ناکام ثابت ہو گئی ہے۔راہول گاندھی نے مزید بتایا کہ یو پی اے کے دور میں جموں وکشمیر کی اور خصوصی توجہ دی گئی لیکن موجودہ انتظامیہ لوگوں کے فلاح و بہبود کے حوالے سے کچھ نہیں کرپا رہی ہے کیونکہ یہاں کے سبھی امور باہر کے لوگ چلا رہے ہیں۔ اس سے قبل راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا پیر کی صبح سانبہ ضلع کے وجے پور سے سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان دوبارہ شروع ہوئی۔ یاترا کے لئے تمام ضروری انتظامات کئے گئے تھے۔مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجئے سنگھ، جنرل سکریٹری تنظیم کے سی وینوگوپال، سابق وزیر طارق حمید اور جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے سابق صدر جی اے میر کے ساتھ پارٹی کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد وجے پور میں راہول گاندھی کے ساتھ شامل ہوئے۔یاترا ستواری پہنچی جہاں جلسہ ہوا جس کے بعد یاترا سدھرا روانہ ہوئی جہاں رات کا قیام ہوگا اور آج یعنی منگل کو یاترا ادھم پور کیلئے روانہ ہوگی۔
ریاستی درجے کی بحالی جموں وکشمیر کا سب سے بڑا مسئلہ ہے،باہر کے لوگ یہاں سارے امور چلا رہے ہیں