نئی دہلی// جموں و کشمیر تنظیم نو (ترمیمی) بل 2021 کی مخالفت کرتے ہوئے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سربراہ اسدالدین اویسی نے حکومت سے پوچھا کہ کتنے کشمیری نوجوان پی ایس اے تحت ملک کی مختلف جیلوں میں قید ہیں اور انہیں کب رہاکیا جا رہا ہے ؟۔ اویسی مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانا بنائے ہوئے کہا کہ مرکزی سرکار کی غلط پالیسوں کی وجہ سے راجیہ سبھامیں کشمیر سے ایک بھی رکن پارلیمنٹ نہیں ہے۔اویسی نے کہا ’’دفعہ 370 کو غیر قانونی طور پر منسوخ کیا گیاکیونکہ تب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ حکومت جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کو جلد از جلد بحال کرے گی لیکن وہ اب تک نہیں کیا گیا‘‘۔انہوں نے امت شاہ سے کہا ’’ آج آپ اس وعدے سے مْکر رہے ہیں کیونکہ جب آپ جموں و کشمیر کیڈر کو اے جی ایم یوٹی میں ضم کر رہے ہیں تو اس سے آپ کی نیت کا صاف اظہار ہوتا ہے کہ جو وعدہ اس وقت ایوان میں کیا گیا تھا وہ سچ پر مبنی نہیں تھا، وہ محض الفاظ یا جملے تھے‘‘۔اسدالدین اویسی نے وزیر داخلہ سے پوچھا کہ ’’آپ مجھے بتائیں کہ کتنے کشمیری نوجوان پی ایس اے کے تحت ملک کی مختلف جیلوں میں قید ہیں اور انہیں کب رہا کریں گے‘‘۔اویسی نے کہا ’’کشمیر خطہ پسماندہ نہیں ہے، یہ آپ کی غلط فہمی ہے اور جو یہاں آپ کو بتایا گیا وہ نفرت کی بنیاد پر آپ کے سامنے رکھا گیا ہے‘‘۔انہوں نے حکومت سے پوچھا ’’آپ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کریں گے یا نہیں؟ ۔رکن پارلیمان نے کہا کہ جموں و کشمیر میں تیز رفتار انٹرنیٹ فور جی بحال کرکے آپ (حکومت) نے عوام پر احسان نہیں کیا بلکہ امریکہ کے دباؤ میں آکر کیا۔