رہائشی ماڈل سکولوں کے قیام کیلئے30 کروڑ روپئے مختص | قبائلی علاقوں کی ترقی کیلئے 2021-22 کاسالانہ منصوبہ

جموں//محکمہ قبائلی امور کے سیکرٹری ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے منصوبہ بندی کو حتمی شکل دینے اور کلسٹر ایریا نقطہ نظر کی مداخلت کے اقدامات کو ترجیح دینے کیلئے افسران کی ایک میٹنگ کی صدارت کی جس کا مقصد وقت سے متعلق پیمائش کے نتایج ہیں ۔ میٹنگ میں ڈائریکٹر قبائلی امور ، ڈائریکٹر فائنانس ، ایڈیشنل سیکرٹری ، سیکرٹری ایڈوائیزری بورڈ ، جوائینٹ ڈائریکٹر پلاننگ اور دیگر افسران موجود تھے ۔ محکمہ کے ایک بڑے قدم کے طور پر رہائشی ماڈل سکولوں کے قیام پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جس کیلئے بجٹ میں 30 کروڑ روپے کی رقم مختص رکھی گئی ہے نئے ماڈل سکولوں کو اجرت یا عارضی رہائش کے ساتھ اوپریشنل بنایا جا رہا ہے۔ اس دوران عمل درآمد کرنے والے اداروں کو آئندہ دو برسوں میں تعمیراتی کام مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ عملے کیلئے انتخاب کا عمل نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی محکمہ تعلیم کے ذریعے مقرر کردہ نوڈل پرنسپلوں کے ذریعے شروع کیا گیا ہے اور طلبہ کے انتخاب کے بارے میں نوٹیفکیشن زیر غور ہے ۔ ڈپٹی کمشنروںکو ضلعی سطح کی کمیٹی کے چیئر پرسن کی حیثیت سے عارضی رہائش کے سامان کا کام سونپا گیا ہے ۔ محکمہ کے زیر انتظام ہوسٹلوں کی جدید کاری ایک اور اہم مرکز ہے جس کیلئے فرنیچر ، کلاس رومز اور رہائشی سہولیات کو اپ گریڈ کرنے کیلئے 10 کروڑ روپے کی رقم مختص رکھی گئی ہے ۔ ہر ہوسٹل میں لائیبریری ، جمنازیم ، سمارٹ کلاس روم اور سپورٹس کلب دیگر سہولیات کے علاوہ فراہم کئے جائیں گے ۔ محکمہ نے کیٹرنگ اور انتظامی ضروریات کیلئے فیز 1 میں 10 ہوسٹلوں کو گاڑیاں فراہم کرنے کیلئے 50 لاکھ روپے کی منظوری بھی دی گئی ۔ ڈاکٹر شاہد نے محکمہ سے کہا کہ قبائلی نوجوانوں کیلئے مختلف معاش کے اقدامات میں تعمیراتی مصروفیت کیلئے اسکیم کو مطلع کریں ۔ شیڈول قبائل کے درمیان خواتین کواپریٹوز اور سیلف ہیلپ گروپوں کو ترجیحی بنیاد پر مالی معاونت فراہم کی جائے گی اور دیہی علاقوں میں خواتین کاروباری افراد کو ان کی دلچسپی کے شعبے کی بنیاد پر مہارت کی ترقی کے خصوصی کورسز پیش کئے جائیں گے ۔ دیہی علاقوں میں قبائلی برادریوں تک حکومت کی فلاحی اسکیموں کے فوئد کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے محکمہ قبائلی امور نوجوانوں کے گروپوں ، تجسٹرڈ این جی اوز ، پنچائتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے تعلیم اور صحت سے متعلق اقدامات پر اسکیموں ، قانونی حقوق کے بارے میں آگاہی کیمپوں کے انعقاد کیلئے تجاویز طلب کریں گے ۔ محکمہ نے فلاحی منصوبوں کے علاوہ قبائلی علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی ، بجلی کی فراہمی اور سڑک کے رابطے کو بہتر بنانے کی تجویز طلب کی ہے ۔