روس یوکرین امن مذاکرات بے نتیجہ ختم

انقرہ//یو این آئی// ترکی کی راجدھانی انقرہ میں جمعرات کو روس اور یوکرین کے درمیان ہونے والا امن مذاکرات انسانی راہداری یا جنگ بندی پر معاہدہ ہوئے بغیر بے نتیجہ ختم ہوگیا۔ایک مختصر میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس میں یوکرین کے وزیر خارجہ دائمترو کولیبا نے کہا کہ میں شہریوں کو ماری پول سے نکالنے کی غرض سے ایک انسانی راہداری کے قیام کا معاملہ اٹھایا تھا لیکن بدقسمتی سے روسی وزیر لاروف اس کا وعدہ کرنے کی حالت میں نہیں تھے ۔بہر حال مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی کیوں کہ ایسا لگتا ہے کہ روس میں اس معاملے میں فیصلہ کرنے والے کوئی اور ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کولیبا نے کہا کہ انہوں نے انسانی بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر مسئلہ کا حل تلاش کرنے کے لیے اس طرح کی مزید میٹنگ ہوتی ہے تو وہ اس میں ضرور شامل ہوں گے ۔دریں اثنا روسی وزیر خارجہ سرگئے لاروف نے دعویٰ کیا کہ ان کے ملک نے پڑوسی ( یوکرین)پر حملہ نہیں کیا۔سی این این کے مطابق وزیر موصوف نے کہا کہ روس کا دیگر ممالک پر حملے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کی صورت حال نے روس کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کردیے تھے ۔یوکرین پر روس کے حملے کو دو ہفتے گزر چکے ہیں اور اس دوران بیلاروس کے مقام پر دونوں ممالک کے فریقین تین مرتبہ مذکرات کر چکے ہیں، جس میں شہریوں کے انخلاء  پر ہی اتفاق ہوسکا تھا۔اس دوران وکرین اور روس نے یوکرین کے 6 شہروں میں 12 گھنٹوں کی جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے تاکہ شہریوں کے انخلا کی اجازت دی جاسکے۔ سومی، شمال مشرقی یوکرین میں میئر نے کہا ہے کہ لوگ ذاتی کاروں اور بسوں کے ذریعے شہر چھوڑنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اینر ہوڈر کے میئر نے کہا کہ زیادہ تر خواتین اور بچوں کے قافلے وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔واضح رہے کہ روسی فوج نے یوکرین کے مشرقی  شہر ماریوپول میں بمباری کی ہے جس کی زد میں میٹرنٹی اسپتال بھی ا?یا۔ بمباری کے نتیجے میں معصوم بچے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جب کہ 3 ہزار سے زائد بچے بغیر خوراک اور ادویات متاثرہ علاقوں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔