عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ جموں و کشمیر میں روایتی سیاست نے ہمیشہ عوام کو تشدد کی راہ پر ڈالا، جس کے نتیجے میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد یا تو جیلوں میں پہنچ گئی یا قبرستانوں میں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ نوجوان نسل کے بہتر مستقبل کے لیے منفی سیاست کا خاتمہ ناگزیر ہے۔سرینگر میں پارٹی کے صدر دفتر پرپارٹی میں نئے شامل ہونے والے افراد کے استقبال کے لیے منعقد ہ تقریب جس میں شہید گنج سری نگر سے تعلق رکھنے والے معروف سیاسی و سماجی کارکن مدثر ولی اپنے رفقا سمیت اپنی پارٹی میں شامل ہوئے ،سے خطاب کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا، ’’روایتی سیاسی جماعتوں کے برعکس اپنی پارٹی ایسی سیاست پر یقین رکھتی ہے جو ہمارے نوجوانوں کو نہ جیلوں کی طرف دھکیلے گی اور نہ ہی انہیں گولیوں کا شکار بننے دے گی۔‘انہوں نے کہا، ’’ہمارے نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، انہیں صرف صحیح رہنمائی، پْرامن اور سازگار ماحول اور مواقع کی ضرورت ہے۔‘‘نئے اراکین کا خیر مقدم کرتے ہوئے اور عوام سے اپنی پارٹی کا ساتھ دینے کی اپیل کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا، ’’یہ جماعت دراصل ایک عوامی جماعت ہے۔ روایتی سیاسی جماعتوں کے برعکس اپنی پارٹی کسی مخصوص خاندان کی ملکیت نہیں ہے۔
ہم خاندانی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔ درحقیقت اس جماعت کا قیام سیاسی خانوادوں کے خلاف جدوجہد کے لیے عمل میں لایا گیا، کیونکہ خاندانی جماعتوں نے ہمیشہ عوام کو دھوکہ دیا اور ان کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔بخاری نے حکومتِ ہند پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرے، کیونکہ وہی اصل اسٹیک ہولڈرز ہیں اور جموں و کشمیر اور اس کے عوام کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔اس موقع پر پارٹی کے سینئر نائب صدر غلام حسن میر نے حکمران نیشنل کانفرنس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ انتخابی اور سیاسی مفادات کے لیے عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ اب اقتدار سنبھالنے کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد وہ بے شرمی سے کہہ رہی ہے کہ نئی دہلی ریاستی درجے کی بحالی نہیں کر رہی۔ اگر ریاستی حیثیت کی بحالی مکمل طور پر مرکز کے اختیار میں تھی، جیسا کہ اب وہ خود تسلیم کر رہے ہیں، تو پھر انہوں نے اس وعدے پر ووٹ کیوں مانگے تھے؟‘‘غلام حسن میر نے مزید کہا، ’’یہ صرف 2024 کے انتخابات کی بات نہیں ہے، روایتی سیاسی جماعتیں ہمیشہ جھوٹے وعدوں اور جذباتی نعروں کے ذریعے عوام کو گمراہ کرتی رہی ہیں تاکہ اپنے سیاسی مفادات حاصل کر سکیں۔ جیسے ہی انتخابی موسم آتا ہے، یہ عوام سے چاند تارے توڑ لانے کے وعدے شروع کر دیتی ہیں۔انہوں نے کہا، ’’عوام، خاص طور پر نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اس حکومت سے ان جھوٹے وعدوں اور گمراہ کن بیانیے کا حساب لیں جو اس نے ووٹ حاصل کرنے کے لیے اپنی انتخابی مہم کئے تھے۔