روایتی دستکاریوں کی بحالی

سرینگر//مرکزی زیرانتظام علاقہ میں دستکاریوں کے شعبے میں تربیت کوتازہ روح جھونکنے کیلئے حکومت نے ’کارخانہ داراسکیم ‘کوشروع کیا ہے جو دستکاروں اور کاریگروں کوتربیت دے کراُن کی ترقی کاسبب بنے گی۔اس اسکیم کو پورے مرکزی علاقے میں ڈائریکتوریٹ آف ہینڈی کرافٹس کے ذریعے عملایا جائے گا۔اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر ہینڈی کرافٹس اورہینڈلوم محموداحمدشاہ نے کہا کہ یہ ایک سنگ میل فیصلہ ہے جس سے دستکاریوں کے شعبے میں نئی جان آئے گی۔انہوں نے مزیدکہا کہ اسکیم سے نہ صرف ان دستکاریوں جن کی مارکیٹ میں مانگ ہے ،بلکہ اُن ہنروں جنہیں اب بھلایا گیا ہے ،کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس سکیم سے گلیذڈٹائیلز،چاندی کے برتن اور فلی گری کوبحال کیاجائے گا۔انہوں نے کہا کہ متعدد تربیتی پروگراموں کے ذریعے تربیت پانے والے افراد نزدیکی کارخانوں سے ماہر اور تجربہ کار اساتذہ اور ہنروں کے ماہرین سے تربیت حاصل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ان دستکاریوں جن میں انسانی وسائل کی کمی ہے کوترجیحی طور تربیت کیلئے منتخب کیاجائے گاجن میں اخروٹ کی لکڑی کاکام ،چاندی کی فلی گری،کانی شال،ختم بند،اور پیپرماشی شامل ہیں۔اس اسکیم کے تحت میرٹ والے تربیت پانے والوں کوماہانہدوہزارروپے کاوظیفہ دیاجائے گااور تربیت کار کو ہرتربیت پانے والے کیلئے دوہزارروپیہ کی اُجرت دی جائے گی،جبکہ سامان اور دیگر چیزوں کیلئے 25000روپے فراہم کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کا مقصد ہنروں کو ماسٹرہنرمندوں سے نئی پود میں منتقل کرنا ہے کیوں کہ یہ مشاہدہ میں آیا ہے کہ ماسٹر ہنرمندوں سے نئی پودمیں ہنروں کی منتقلی کچھوے کی چال سے ہورہی ہے۔