رواں ایجی ٹیشن کا پہلا واقعہ، بیک وقت تین لڑکیاں نشانہ بن گئیں

سرینگر// وادی میں پچھلے 115دنوں کے دوران پہلی مرتبہ گزشتہ روز روہمو پلوامہ میں خواتین کو براہ راست پیلٹ کا نشانہ بنا کر تین کمسن لڑکیوں کو آنکھوں کی بینائی سے محروم کردیا گیا ہے۔ پچھلے چار ماہ میں اپنے طرز کے پہلے دل دہلانے والے واقعہ میں فورسز نے کمسن لڑکیوں کو پیلٹ کا نشانہ بنانے سے قبل بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا ۔ روہمو پلوامہ میں پیر کودن کے دو بجے فورسز اہلکاروں نے 14سالہ افرا جان دختر مرحوم شکور احمد ڈار ساکن علمدار کالونی ، 16سالہ طالبہ شبروزہ دختر محمد اکرم میر اور 20سالہ افروزہ دختر محمد اکبر بگہ کوفورسز اہلکاروں نے پیلٹ کا نشانہ بنا کر تینوں کی زندگی کو گہرے اندھیرے میں دھکیل دیا ہے۔وادی میں تین ماہ سے زائد عرصے سے جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران پہلی مرتبہ تین خواتین کے آنکھوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔زخمی ہونے والی تینوں لڑکیوں میں 2 ابھی زیر تعلیم ہے جبکہ ایک لڑکی غربت کی وجہ سے سکول بھی نہ دیکھ سکی۔ سرینگر کے صدر اسپتال کے وارڈ نمبر 7میں زیر علاج تینوں لڑکیوں کے چہروں پر ایک ہی سوال ہے کہ انہیں کس جرم کی سزا کے طور پر آنکھوں سے محروم کردیا گیا ہے۔تینوں لڑکیوں میں سب سے زیادہ دل دہلانے والے واقعہ میں فورسز اہلکاروں نے 8ویں جماعت کی14سالہ افراء کو اپنے ظلم کا نشانہ بناکر ہمیشہ کیلئے بینائی سے محروم کردیا ۔آنسوبہاتی یہ تینوں لڑکیاں یہ سوال کررہی ہیں کہ وہ پھر سے کب دیکھ سکیں گی۔14سالہ افراء کی موسی روبینہ نے  واقعہ کے بارے میں بتایا ’’ پیر کی صبح9بجے روہمو میںاحتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جو شام 5بجے تک جاری تھا۔‘‘ روبینہ نے بتایا کہ دن کے دو بجے افراء اپنے بھائی کو بلانے کیلئے گھر سے باہر آئی تو پولیس اہلکاروں نے افراء کے بال پکڑ کر اسکو گھیسٹا۔‘‘ روبینہ نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے افراء کو پکڑکر پہلے مارا پیٹا اور پھر پیلٹ کا نشانہ بنا کر آنکھوں کی بینائی سے محروم کردیا ۔ افراء کی دونوں انکھیں، چہرا، گردن اور چھاتی پر پیلٹ لگے ہیں۔ روبینہ نے بتایا کہ پیلٹ لگنے سے آنکھوں میں زخموں سے چور افراء کو مقامی لوگوں نے ضلع اسپتال پلوامہ پہنچایا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی حالت نازک قرار دیتے ہوئے صدر اسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔ روہمو میں قائم علمدار پبلک سکول میں 8جماعت کی طالبہ افراء کے والد کو بھی فورسز اہلکاروں نے 2004میں رات کے وقت گولی مارکر جان بحق کردیا تھا ۔ روبینہ کے مطابق افراء ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی ہے جو دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہونے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ صدر اسپتال میں شعبہ چشم میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ افراء کی دنوں آنکھوں میں20 پیلٹ لگے ہیں جس سے آنکھوں کو شدید چھوٹیں آئی ہیں۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ افراء کی ابتدائی جراحی پیر کی شام کو ہی انجام دی مگر بینائی کو پہنچے نقصان کا اندازہ دوسرے درجے کی جراحی انجام دینے کے بعد ہی ہوگا۔ علمدار کالونی  میں زخمی ہونے والی دوسری کمسن لڑکی 16شبروز ہ مقامی گرلز ہائر سیکنڈری سکول میں 10ویں جماعت کی طالبہ ہے۔ افراء کی طرح ہی شبروزہ بھی احتجاجی مظاہروں کے بیچ اپنی چھوٹی بہن کو گھر لانے کیلئے گھر سے نکلی تھی مگر فورسز اہلکاروں نے اسکو بھی پیلٹ کا نشانہ بنایا ۔ شبروز ہ کی بائیں آنکھ  پیلٹ لگنے سے زخمی ہوئی ہے جبکہ دائیں آنکھ کو چھروں کا شل لگنے سے نقصان پہنچا ہے۔ شبروز ہ کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ اسکی ایک آنکھ بچانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں تاہم جراحیوں کے عمل سے گزرنے کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ اس کی آنکھوں کو نقصان ہوا ہے یا نہیں۔فورسز اہلکاروں کی طرف سے چلائے گئے پیلٹ کا شکار ہونے والی تیسری لڑکی 20سالہ افروزہ ہے۔ افروزہ اسی وقت پیلٹ کا شکار ہوئی جب فورسز نے افراء کو نشانہ بنا یا ۔ 20سالہ افروزہ اگرچہ کسی سکول میں زیر تعلیم نہیں ہے مگر گھریلوں کام میں ہر وقت پیش پیش رہتی تھی۔ تینوں زخمی لڑکیوں کے بارے میں صدر اسپتال میں شعبہ چشم کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے زخموں کی نوعیت کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ تینوں لڑکیوں کو نزدیک سے پیلٹ کا نشانہ بنایا گیا ہے اور انکی آنکھوں کی بینائی بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔