عظمیٰ نیوز سروس+ راجا ارشاد احمد
سرینگر//رنگریٹ میں ایک نجی صنعتی یونٹ میں ایک خاتون مزدور بے ہوشی کی حالت میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔حکام نے بتایا کہ متوفی کی شناخت خانیار کی ایک مزدور خاتون کے طور ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ رنگریٹ میں صنعتی یونٹ میں کام کرنے والے ساتھی مزدوروں نے اسے کمرے کے اندر بے ہوش پڑا پایا اور اسے فوری طور پر علاج کے لیے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا۔تاہم ہسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے موت کی وجہ جاننے کے لیے کارروائی شروع کردی ہے۔ادھرضلع گاندربل کے ٹھیون کنگن علاقے میں کل یاسمنہ بانو زوجہ محمد محمد الطاف ٹھیکری نامی دوشیزہ پاور کینال میں حادثاتی طور پر گرنے کے بعد لاپتہ ہوئی۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اسٹیشن کنگن کی ٹیم، مقامی لوگوں کے تعاون سے جائے وقوعہ پر پہنچی اور لڑکی کی تلاش کے لیے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔حکام نے بتایا کہ نہر میں پانی کی سطح بلند ہونے اور تیز بہاؤ کے باعث ریسکیو کارروائی میں مشکلات پیش آئیں، جس کی وجہ سے ابتدائی مرحلے میں اہلکار نہر میں داخل نہیں ہو سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کی ٹیم کو بھی موقع پر طلب کیا گیا ۔ کافی معشقت کے بعد غرقاب ہوئی لڑکی کی لاش پاور کنال سے برآمد کرکے قانونی لوازمات کے بعد لاش کو لواحقین کے حوالے کردی گئی ۔ادھر سیاحتی مقام پہلگام کے آڑو میں ایک چار سالہ بچہ مبینہ طور پر ایک گاڑی کی زد میں آ کر شدید زخمی ہو گیا۔زخمی بچے کی شناخت محمد یاسر چلہ ولد غلام احمد چلہ ساکن لین ڈاچن، پہلگام کے طور پر ہوئی ہے۔ بچے کو ابتدائی علاج کیلئے گورئمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) اننت ناگ منتقل کیا گیا، جہاں سے تشویشناک حالت کے پیش نظر اسے مزید علاج کے لیے ایس ایم ایچ ایس اسپتال سرینگر ریفر کر دیا گیا۔