رمضان! رحمٰن کے انعام کا استقبال کیسے کریں؟

 رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ایک بار پھر ہماری زندگیوں میں روشنیاں بکھیرنے آ رہا ہے۔ اس ماہ عظیم سے استفادہ کے لئے بہترین منصوبہ بندی ضروری ہے ،بالکل اسی طرح جیسے ایک عقلمند کسان موسم برسات سے پہلے تیار ی کرلیتا ہے تاکہ بارش کے پانی سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔ اُسی طرح ہمیں بھی اپنے قلب و ذہن میں تیار کرنا ہے سچی نیت، پختہ عزم اور ٹھوس ارادوں کے ساتھ تاکہ رمضان میں ہونے والی برکتوں اور رحمتوں کی بارش سے ہم خوب خوب سیراب ہوسکیں۔ خوش نصیب ہوگا وہ جسے ایک بار پھر رمضان المبارک کی مبارک ساعتیں میسر آئیں اور انتہائی بد نصیب ہوگا وہ جسے یہ ماہ مبارک ملے اور وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔
رمضان المبارک سے بھر پور فائدہ اٹھا نے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے سے ہی اس کی تیاری کی جائے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے بعد سب سے زیادہ روز ے ماہ شعبان میں رکھا کرتے تھے، اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ شعبان کا مہینہ جو رمضان المبارک سے بالکل متصل ہے، تیاری کے لئے موزوں مہینہ ہوتا ہے۔ آئیے ہم سب مل کر سوچیں کہ رمضان المبارک کی تیاری کیسے کی جائے۔
ماہ رمضان اور قرآن مجید کا رشتہ انتہائی گہرا ہے۔ اس مہینے میں نہ صرف قرآن مجید کا نزول ہوا ہے بلکہ اس کی عبادتوں میں بھی قران مجید کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ قرآن مجید میں امت اسلامیہ کے لئےکرنے کے جو کام بیان ہوئے ہیں، رمضان المبارک اُن کیلئے تربیت اور ٹریننگ کا موقع فراہم کرتا ہے۔
رمضان المبارک کے روزے فرض کئے گئے تاکہ ملت اسلامیہ کے اندر تقویٰ اور شکرگزاری کی صفت پیدا کی جائے، انہیں میدان عمل میں سرگرم کر دیا جائے اور ان کے اندر مقصد زندگی کا شعور پیدا کیا جائے، ملت اسلامیہ کی صحیح انداز میں تربیت کی جائے اور انہیں زندگی کی اعلیٰ قدروں سے روشناس کرایا جائے تاکہ ملت اسلامی کے اندر باہمی تعاون ، محبت اور خیر خواہی کا جذبہ پروان چڑھے، ان کا قرآن مقدس سے وابستہ مضبوط ہوجائے اور اس کے سارے احکامات کی بجا آوری کیلئے ہمہ دم تیار رہے۔ اپنے مقصد ِوجود کو سمجھے اور پیغام الہٰی کے نشرواشاعت کے لئے سرگرم عمل ہو جائے، اپنے اندر دنیا کی محبت اور مال کی طمع تض ختم کرے اور آخرت کی سرخروئی اور رب کی رضامندی کو سامنے رکھتے ہوئے زندگی گزارے۔کیوں نہ ہم عہد کریں کہ اس رمضان المبارک میں ہم ایسے عبادات کریں گے کہ اس ماہ مبارک کو ہم اپنی زندگی کا آخری رمضان سمجھ کر گزاریں۔ پتہ نہیں پھر یہ سنہری موقعہ دو بارہ ملے یا نہ ملےاوریہ رمضان ہماری زندگی کا فیصلہ کن موڑ ہوگا۔کیوں نہ ہم یہ فیصلہ بھی کرلیںکہ اس مرتبہ ہم پورے ایک ماہ کی مشق و تر بیت کے ذریعہ اپنی زندگی کو بالکل بدل ڈالیں تاکہ اس یک ماہی تربیتی کورس کے ذریعے ہمارے جسم اور ہمارے دل و دماغ نیکیوں کے عادی اور برائیوں سے متنفر ہوجائیں گے۔
�  ذہنی تیاری :اس مبارک فیصلے کے بعد آپ ذہن کو رمضان المبارک کی تیاری کے لیے یکسو کرلیں۔ جس طرح سالانہ امتحان سے پہلے ہی آپ کے دل و دماغ پر امتحان سوار ہو جاتا ہے رمضان آپ کی توجہ اور سوچ کا محور بن جائے۔ ابھی سے طے کیجیے کہ ماہ رمضان کی برکتیںہمیںکس طرح بھر پور انداز سے سمیٹنی ہیں۔ اس عظیم سالانہ امتحان میں کس طرح انعام کا مستحق خود کو بنانا ہے۔
�تصیح تلاوت :کیا آپ روانی سے صحیح صحیح قرآن مجید کی تلاوت کر لیتے ہیں؟ اگر نہیں تو دیر مت کیجیے آج ہی سے کسی کو اپنا استاذ بنا لیں اور قرآن مجید کی صحیح تلاوت سیکھنا شروع کر دیں۔ آپ کے ساتھی، گھر یا پڑ وس کا کوئی بزرگ، مسجد کے امام صاحب، یاقریبی مدرسے کے کوئی مدرس۔ غرض اس میں کوئی جھجھک اور رکا وٹ نہیں ہونی چاہئے۔ کیوں کہ رمضان المبارک تو قرآنِ کریم کا مہینہ ہے۔ اس ماہ کا بڑا حصہ تلا وت میں گزرنا چاہئے، تلاوت کرنے میں جو لطف حاصل ہوتا ہے، وہ اٹک اٹک کر پڑھنے میں کہاں مل پاتا ہے۔ یقین جانئے جو وقت آپ کے پاس ہے، وہ تلاوت قرآن سیکھنے اور اسے رواں کرنے کے لیے بہت کافی ہے، بس ارادے کی دیر ہے۔
�مسنون دعائیں یاد کرنا :ماہ رمضان کی کچھ تو مخصوص دعا ئیں ہیں جیسے سحری و افطار کی دعائیں اور قیام لیل کی دعا، پھر ان کے علاوہ بھی بہت ساری مسنون دعائیں اور اذکار یاد کرلیں۔ رمضان کی راتوں میں جب سجدے میں گر کر یہ مسنون دعائیں ربِ کائنات کے حضور پیش کریں گے۔ جب دن کے وقت سوکھے ہونٹوں اور خشک زبان کو ذکرِ الہٰی سے تر کریں گے تو ربِ کائنات کتنا خوش ہوگا۔ مسنون دعاؤوں کی خوبی یہ ہے کہ وہ بہت چھوٹی چھوٹی ہوتی ہیں اور آسانی سے یاد ہو جاتی ہیں۔ پھر کوتا ہی کیوں ہو؟ روزانہ ایک دعا بھی یاد کریں تو ماہ رمضان کے استقبال کے وقت ہمیں بیسیوں دعائیں یاد ہوچکی ہوں گی۔ پھر کتنا اچھا لگے گا ماہ رمضان کا استقبال۔
�قیام لیل کی مشق :رمضان المبارک میں قیام لیل کی بڑی فضیلت ہے ۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا: جس نے رمضان کی راتوں کو ایمان واخلاص کے ساتھ قیام کیا، اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ بڑے خوش نصیب بندے ہوتے ہیں وہ جو رات کی تاریکیوں میں اُٹھ کر اپنے رب کو یاد کرتے ہیں۔ نمازیں پڑھتے ہیں تلا وت کرتے ہیں، دعا اور استغفار کرتے ہیں۔ آنسووں اور سسکیوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔ اس کی مشق بھی اگر ابھی سے شروع کر دیں تو رمضان کی راتوں کا لطف دو بالا ہو جائے گا۔ کیوں کہ بغیر مشق کے رات میں اُٹھنا اور اُٹھ کر پھر عبادت کرنا طبیعت پر بہت شاق گزرتا ہے اور اگر پہلے سے کچھ مشق اور عادت ہو جائے تو یہ مشکل کام نہایت آسان ہو جاتا ہے۔ ویسے بھی سال کی تمام راتوں میں اُٹھنا مطلوب و مسنون ہے۔
�سورتیں یاد کرنا :نمازوں میں پڑھنے کے لیے قرآن مجید کی جتنی سورتیں یاد ہیں، ان کے علاوہ مزید کچھ سورتیں یاد کر لیں۔ جتنی زیادہ سورتیں یاد ہوں گی، اُتنا ہی بھرپور قیام لیل ہوگا ۔ آغاز چھوٹی سورتوں سے کریں۔
�انفاق کی تیاری :پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہایت سخی اور فیاض تھے، اور سب سے زیادہ سخی وہ رمضان میں ہوتے تھے۔ رمضان المبارک میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور غریبوں کی مدد کرنے کی بڑی فضلیت ہے۔ اگر آپ ابھی سے اپنے فاضل اخراجات کم کرکے اور جیب خرچ کو سمیٹ کرکے رقم جمع کر لیں تو رمضان المبارک میں انفاق کے مواقع میسر آسکتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں انفاق نہیں کیا جائے۔ تاہم معمول کے انفاق کے علاوہ کچھ رقم بچا کر رمضان میں انفاق کے لیے خود کو تیار کرنا بھی رمضان کی تیاریوں میں شامل ہے۔
�مسا ئل و مقاصد سے واقفیت :رمضان کی علمی و فکری تیاری بھی پہلے سے ہونا چاہیے۔ رمضان کے جملہ مسائل سے واقفیت ہو۔ رمضان کے مقاصد ابھی سے ذہن نشین کرلیے جائیں۔ قرآ ن مجید کے ترجمے اور تفسیر کی مدد سے رمضان اور روزے سے متعلق آیتوں پر غور فکر کرکے رمضان کی روح کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔جن احادیث میں رمضان اور روزوں کا خصوصی تذکرہ ہے، انہیں بھی ترجمے کی مدد سے پڑھا جائے۔ علماء کرام نے رمضان المبارک پر جو مضا مین اور کتابیں لکھی ہیں ان کا مطالعہ کیا جائے۔
�بری عادتوں سے چھٹکارا :بد کلامی، فحش گوئی اور فضول باتیں روزے کی روح کے منافی ہیں۔ ویسے بھی یہ وہ چیز یں ہیں جو کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتی ہیں۔ جس زبان نے اللہ اور اس کے رسولؐ کا نام لیا ہو، اُس زبان پر گالی اور فحش بات کیسے آسکتی ہے؟ ایسی پیاری زبان کو تو ہمیشہ پاک و صاف رہنا چاہیے۔ہوتا یہ ہے کہ گزشتہ عادت یا ماحول کے زیر اثر کبھی کبھی بے خیالی میں بھی غلط بات ، گالی وغیرہ زبان پر آجاتی ہے۔ اگر ابھی سے ہم اپنی زبان پر کڑی نگاہ رکھیں تو ان شاء اللہ زبان ایسی تمام باتوں سے بالکل متنفر ہو جائے گی اور بھول کر بھی یہ گندی باتیں زبان پر نہیں آسکیں گی۔اسی طرح نگاہ اور دل کی بھی کڑی نگرانی کی ضرورت ہے۔
آئیے ہم عزم کرتے ہیں! کہ ہم ایمان احتساب کے ساتھ روزہ رکھنے کا اہتمام کریں گے اور ہم اپنی زبان کو کسی غیبت، چغلی اور بہتان تراشی اور فضول باتوں سے آلودہ ہونے سے بچائیں ۔ہم تدبر و تفکر کےساتھ قرآن مجید کی تلاوت کریں گے۔ اپنے مال کا کچھ حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے اور اپنی روزمرہ کی عادات و اطوار پر غور کرکے انہیں سنوارنے اور ان کو اللہ کی اطاعت کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں گے۔
اور آخر پر اللہ تعالی سے یہی دعا کرتے ہیں،اللهم بلغنا رمضان۔
( اچھن پلوامہ۔طالب علم شعبہ سیاسیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)