فکر انگیز
سید مصطفیٰ احمد
میں کوئی مبلغ نہ کوئی مولوی ہونے کے ناطے یہ مضمون تحریر کر رہا ہوں لیکن ہر روز جموں و کشمیر یونین ٹریٹری میں رشوت خوری میں ایک یا دو سرکاری اہلکار ملوث پائے جاتے ہیں ۔ اگر صبح رشوت خوری کی معاملہ خالی دکھائی دیتا ہےتو شام آتے آتے کوئی نہ کوئی سرکاری اہلکار اس گندگی کا شکار ضرور نظر آتا ہے۔عام انسان یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ ایسی کیا مجبوری ہے جو ان بے ضمیر لوگوں کو رشوت جیسی لعنت کے پیچھے بھاگنے پر آمادہ کرتی ہے۔عجب معاملہ ہے کہ ایک موٹی تنخواہ پانے کے باوجود یہ لٹیرے کیسے اپنی ان شیطانی کرتوتوں سے معاشرےکےتانے بانے کو بکھرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب ان لوگوں پر اپنے رحمت کے دروازے نوکری کے شکل میں کھول کر رکھے ہیں، تو ایسے میں رشوت کے پیچھے پاگل کتوں کی طرح بھاگنا سمجھ سے باہر ہے۔غور کریں تو اسی نتیجے پر پہنچتے ہیںکہ کچھ وجوہات ہیں، جن کی وجہ سے یہ گناہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔کچھ وجوہ کا ذکر مندرجہ ذیل سطروں میں کیا جارہا ہے۔
پہلا سبب ،حرص کا اندھا دُھند مرض ہے۔ اندر کی حرص،وہ مرض ہے جو اُنہیں کھائے جا رہاہے۔ جب انسان کی آنکھوں میں حرص بیٹھ جائے تو پھر تنخواہ چاہے ایک لاکھ ہو یا دس لاکھ، اُسے کم نظر آتا ہے اوراُسےاس دلدل میں اُترنے میں کوئی غلطی دکھائی نہیں دیتی ہے۔ دوسرا سبب ضمیر کی موت ہے۔ واقعی یہ وہ لوگ ہیں ،جن کا ضمیر مر چکا ہوتا ہے۔ جب ضمیر مردہ ہو جائے تو انسان حلال و حرام میں فرق نہیں کر سکتا۔ تیسرا سبب نظام کی کمزوری ہے۔ اُنہیں پکڑے جانے کا ڈر نہیں ہوتا ہے، جب تک پکڑنے والا خود پکڑا نہ جائے، یہ لُٹیرے ڈاکے ڈالتے رہیں گے اور قوم کی ناؤ کو ڈبوتے رہیں گے۔ چوتھا سبب سماجی تقلید کی وبا ہے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ سارے افسر رشوت لے رہے ہیں تو انہیں لگتا ہے کہ اگر وہ نہ لیں گے تو بے وقوف کہلائیں گے اور یہی سوچ رشوت کی جڑیں مضبوط کرتی ہے۔ اب ہم اس مصیبت سے پیدا ہونے والے نتائج کا کچھ مختصر ذکر کرتے ہیں۔رشوت کے نتیجے میں جو کچھ ہوتا رہتا ہے،اُسے دیکھ کر عام روتا رہتا ہے مگر یہ لُٹیرے ہنستے رہتے ہیں۔ غریب کی جھونپڑی تک پہنچنے والی سہولت راستے میں ہی لوٹ لی جاتی ہے۔ ایماندار افسر کا دل ٹوٹ جاتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کے ساتھی رشوت لے رہے ہیں اور پکڑے نہیں جا رہے ہیں ۔بے شک اللہ تعالیٰ کا غضب اس قوم پرنازل ہوتا ہے، جس میں رشوت عام ہو جاتی ہے۔جبکہ رشوت کے ناسور سے پورا معاشرہ بگاڑ کا شکار ہوجاتا ہے۔اخوت اور محبت کی ساری بنیادوں ہل جاتی ہیں۔لوگ مست ہاتھیوں کی طرح ہر کسی کو روندتے چلے جاتے ہیں۔ اب کچھ ایسی تدابیر کا ذکر کرتے ہیں جو اس ناسور کو کسی حد تک روکنے کا کام کر سکتے ہیں مگر پھر سوال یہ ہے کہ کیا کوئی واقعی علاج ہے؟ جی ہاں، علاج ہے مگر شرط یہ ہے کہ ہم سب کو اپنی خاموشی توڑنی ہوگی۔ جب عوام رشوت دینا بند کر دیں گے، جب اخبار والے نام چھاپنا شروع کر دیں گے، جب عدالتیں سخت سے سخت سزائیں دیں گی، تب جا کر یہ ناسور ٹھیک ہو سکتا ہے۔ ایک راستہ یہ بھی ہے کہ ان لُٹیروں سے سماجی روابط منقطع کئے جائیں۔ آخر میں اتنا ضرور کہوں گا کہ اللہ نے جب نوکری دی ہے تو اس کا شکر ادا کرو، رشوت کی لعنت میں مت پڑو۔ رشوت کی لعنت سے اپنے ہاتھ، اپنا منہ اور اپنی آخرت برباد مت کرو۔ یاد رکھو، جس نے دوسروں کو لوٹا، وہ خود بھی لُٹ کر خاک میںمل جاتا ہے۔ بس یہی تلخ حقیقت ہے ۔ اب بھی موقع ہے کہ شکرگزاری کا راستہ اپنا کر اس گناہ سے اپنے آپ کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔