پٹنہ’ //ہتک عزت کے ایک معاملے میں کانگریس صدر راہل گاندھی نے بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں واقع ایک خصوصی عدالت میں خودسپردگی کی’ جہاں الزام کی خلاصہ سنانے کے بعد انہیں ضمانت پر آزاد کردیا گیا۔ممبران پارلیمنٹ او رممبران اسمبلی کے معاملے کی سماعت کے لئے قائم کصوصی عدالت کے جج کمار گنجن کی عدالت میں خودسپردگی کرنے کے ساتھ ہی مسٹر گاندھی کی طرف سے انہیں ضمانت پر آزاد کئے جانے کی اپیل کی گئی تھی۔ عرضی پرپٹنہ ہائی کورٹ کے سینئر وکیل ششی انوگرہ نارائن نے بحث کی۔ معاملے کے شکایت کنندہ بہار کے نائب وزیر اعلی سشیل کمار مودی کی طرف سے پٹنہ ہائی کورٹ کے وکیل پرمود کما رجھا نے عدالت سے درخواست کی کہ مسٹر گاندھی عدالت میں بذات خود موجود ہیں اس لئے آج ہی انہیں الزام کا خلاصہ سنادیا جائے اور الزام طے کرنے کاعمل پورا کرلیا جائے ۔ عدالت نے شکایت کنندہ کی درخواست قبول کی اور کھلی عدالت میں مسٹر گاندھی کو ان پر عائد ہتک عزت کے الزامات کا خلاصہ انگلش میں پڑھ کر سنایا۔مسٹر گاندھی نے اپنے اوپر عائد الزامات سے انکار کیا۔ اس کے بعد عدالت نے مسٹر گاندھی کو دس ہزار روپے کے نجی مچلکے اوراتنی ہی رقم کے دو ضمانت داروں کو بانڈ پیپر داخل کرنے کی صورت میں ضمانت پر رہا کئے جانے کا حکم دیا۔خیال رہے کہ 18اپریل 2019 کو پٹنہ کے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت میں بہار کے نائب وزیر اعلی ششیل کمارمودی نے مسٹر گاندھی کے خلاف ہتک عزت کی ایک شکایت درج کرائی تھی۔ اس مقدمے میں مسٹر گاندھی کے انتخابی جلسہ کے دوران کرناٹک کے بنگلور میں دئے گئے اس بیان کو ہتک عزت والا قرار دیا گیا ہے جس میں انہوں نے سوالیہ لہجے میں کہا تھا[؟]سبھی مودی نام والے چور کیوں ہیں؟[؟] اس معاملے میں پٹنہ کے دو ممبران اسمبلی سنجیو چورسیا اور نتن نوین کا نام گواہوں کی فہرست میں دیا گیا ہے ۔چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ ششی کانت رائے نے 26 اپریل 2019 کو نائب وزیر اعلی مسٹر مودی کا حلفیہ بیا ن قلم بند کیا تھا۔ اسی دن مسٹر مودی کی طرف سے مسٹر گاندھی کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 500 کے تحت نوٹس لیتے ہوئے معاملے میں انکی موجودگی کے لئے 20مئی کی تاریخ مقرر کرکے سمن جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ نے معاملے میں مزید کارروائی کے لئے مقدمے کی فائل ممبران پارلیمنٹ او رممبران اسمبلی کے لئے قائم خصوصی عدالت کے جج اورچیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کمار گنجن کی عدالت میں منتقل کردیا تھا۔عدالت نے 20مئی 2019کو مسٹر گاندھی کی طرف سے ان کے وکیل اروند شرما اور انشو کمار نے حاضر ہوکر تعزیرات ہند کی دفعہ 205 کے تحت ایک درخواست داخل کرکے معاملے میں مسٹر گاندھی کو ذاتی طورپر حاضر ہونے سے رعایت دینے کی درخواست کی تھی۔