محمد تسکین
بانہال // ضلع رام بن کے ہڑوگ علاقے میں ایک 15سالہ معصوم بچی کی پُراسرار حالات میں درخت سے لٹکی ہوئی لاش ملنے سے پورا علاقہ غم و غصے میں ڈوب گیا ہے اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔ اطلاعات کے مطابق محمد قاسم گوجر ساکنہ ہڑوگ کی یہ بچی بدھ کے روز اپنے مویشی چرانے کے لیے گھر سے نکلی تھی، مگر شام تک واپس نہ لوٹنے پر اہلِ خانہ اور مقامی لوگوں میں تشویش پھیل گئی۔ گاؤں والوں کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس کے بعد بچی کو ڈھونڈنے کیلئے تلاش کاروائی شروع کی گئی اور بالآخر اسے ایک درخت سے لٹکاہوا پایا گیا اور اطلاعات ہیں کہ اسے اپنے دوپٹہ کے سہارے لٹکا ہوا پایا اور یہ منظر دیکھ کر وہاں پہنچے گاؤں والوں کے دل دہل اٹھے۔ مقامی گوجر برادری کے افراد کا کہنا ہے کہ جائے واردات پر خون کے نشانات بھی پائے گئے، جس سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ معصوم بچی کو پہلے زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا اور بعد میں اسے درخت سے لٹکا دیا گیا۔
اس المناک واقع کے خلاف لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور وہ ملزم کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔بھارتیہ جنتا پارٹی ایس ٹی مورچہ ضلع رام بن کے صدر چودھری عبدالغنی نے اس دل دہلا دینے والے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مجرموں کو جلد از جلد گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ضلع ہسپتال رامبن میں اس کیس کی ضروری قانونی لوازمات کو انجام دینے کی کاروائی کی نگرانی کر رہے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس رامبن، مجیب الرحمٰن نے بتایا کہ بدھ کی رات گیارہ بجے اس واقع کی اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر لاش کو تحویل میں لے لیا ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع ہسپتال رام بن میں ڈاکٹروں کے ایک بورڈ نے پوسٹ مارٹم کیا ہے اور موقع واردات سے ضروری نمونے بھی جمع کیے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہےجبکہ مقامی لوگوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بھی سنجیدگی سے پرکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھے گی، مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔