رام بن میں بچی کے ساتھ مبینہ دست درازی معاملہ کے ملوثین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

رام بن // رام بن میں ایک گوجر کمسن لڑی کی اجتماعی عصمت دری کی تحقیقات میں مبینہ کوتاہی کے خدشات کے خلاف ضلع کے مذہبی لیڈروں اور بعض این جی اوز نے ضلع آفس کمپلیکس کے باہر زور دار احتجاجی دھرنا دیا ۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے چودھری طالب حسین نے الزام لگایا کہ انہیں طبقہ کے بعض ممبروں نے مطلع کیا کہ ضلع کے بعض پولیس افسران اس خطر ناک کیس میں تحقیقاتی ایجنسی پر دبائو بنا کر کیس کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں،تاکہ اصل مُجرم قانون کی گرفت سے بچ جا ئے۔مظاہرین نے انتباہ کیا کہ وہ اس کیس میں انصاف دلانے کے لئے کسی بھی حدتک جانے کو تیار ہیں۔مظاہرین نے الزام لگایا کہ نا معلوم ملزمان نے وارنل ساربگنی کی کمسن کی اجتماعی عصمت دری کی تھی اور غیر قانونی طور سے حمل گرایا گیا۔مظاہرین نے ضلع مجسٹریٹ کو اس واقعہ کی جانکاری دیتے ہوئے معاملہ میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا۔تاہم ، کشمیر اعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے ایس ایس پی رام بن انیتا شرما نے انکشاف کیا کہ اس معاملہ کی ہر لحاظ سے تحقیقات کرنے کیلئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔تحقیقاتی ٹیم زیر نگرانی ایڈیشنل ایس پی سنجے پریہار ،ڈی ایس پی بانہال سجاد احمد کام کرے گی اور جو کوئی بی اس فعل میں ملوث ہوگا ،تو اسے قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ تحصیل رام سو کے گوجر طبقہ سے تعلق رکھنے والی ایک کم سن گوجر لڑکی کی پانچ افراد نے مبینہ اجتماعی عصمت دری کی تھی۔ایس ایس پی رام بن انیتا شرما کی ہدایت پر رامسو پولیس سٹیشن میں اس سلسلہ میں ایک معاملہ زیر ایف آئی آر نمبر1 of 2019 زیر دفعہ  376 رنبیر پینل کوڈ کے تحت درج کیا گیا۔
 
 

پریس کالونی میں پیپلز الائنس کا احتجاجی مظاہرہ

بلال فرقانی
سرینگر// رام بن میں گزشتہ دنوں ایک بچی کے ساتھ مبینہ دست درازی کے خلاف پیپلز الائنس نے احتجاج کرتے ہوئے اس واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا مطالبہ کیا۔پریس کالونی میں منگل کو بعد از دوپہر جموں کشمیر پیپلز الائنس کے کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے نعرہ بازی کی۔احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں بیئر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے،جن  پر’’مزید ظلم منظور نہیں‘‘ کے نعرے درج تھے۔اس موقعہ پر احتجاجی مطاہرین نے رام بن واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے میں ملوث ان افراد کو عوامی عدالت میں پیش کیا جانا چاہے،جو اس میں ملوث ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس کھٹوعہ کے رسانہ علاقے میںبھی ایک بچی کی عصمت کو تار تار کیا گیا تھا اور اس کیس میں بھی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے پھرن پر پابندی عائد کرنے پر بھی  مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پھرن کشمیری لباس اور تہذیب کا حصہ ہے اور اس پر کسی کو بھی وار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔