رام بن//گزشتہ کئی دنوں سے ناسازگار موسم کی وجہ سے امر ناتھ یاتریوں کو دوسرے روز بھی رام بن کے مقام پر روکا گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں یاتریوں کیلئے رام بن قصبہ کے اسکولی عمارتوں میں انتظامات رکھا گیا جن کو جمعرات کی صبح اودھمپور سے سرینگر کی طرف روانہ کیا گیا تھا جن میں 180 چھوٹی بڑی گاڑیاں شامل ہیں۔ چندر کوٹ کے مقام پر معتدد یاتریوں کی گاڑیوں کو پولیس نے روکا ، جس پر یاتری مشتعل ہوئے اور گاڑیوں سے اتر کر سڑک پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے انتظامیہ کے اہلکاروں نے بتایا کہ آج صبح تمام درماندہ یاتریوں کی گاڑیوں کو سرینگر کی طرف روانہ کیا جائے گا۔دریں اثناء ضلع کے مختلف علاقوں میں بد ترین جام دیکھنے کو ملا کیونکہ جموں۔ سرینگر قومی شاہراہ پر کئی گھنٹوں تک ٹریفک جام لگا رہا ۔مختلف محکموں کے تال و میل کی عدم دستابی اور غلط نظام کی وجہ سے امر ناتھ یاترا شروع ہونے کے دن سے ہی ضلع کے عوام کو ٹریفک جام کا مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ ان لوگوں کا مبینہ الزام ہے کہ انتظامیہ خصوصاً پولیس اور ٹریفک پولیس کی ناقص کارکردگی سے شاہراہ پر ٹریفک کنٹرول کرنے میں دشواریوں کا سامنا کر ناپڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ٹریفک جام کی وجہ سے مریضوں اور سرکاری ملازموں کو ٹریفک جام میں پھنس جانے کی وجہ سے مشکلات پیش آتے ہیں، جو کہ یاترا شروع ہونے کے ساتھ اب ایک معمول بن گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھاری تعداد میں تعینات سیکورٹی اہلکار بھی ٹریفک جام کو ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔شاہراہ سے سفر کرنے والے مسافروں کا الزام ہے کہ وہ اپنے منزل و مقصود پر وقت پر نہیں پہنچ پاتے ہیں۔انہوں نے شکایت کی کہ ایک طرف تو اعلان کیا جاتا ے کہ شاہراہ پر یکطرفہ ٹریفک چلے گا لیکن اصل میں ہمیشہ سے ہی دو طرفہ ہوتا ہے۔مہر کے ایک مسافر نے شکایت کی کہ ضلع صدر مقام سے محظ دو کلو میٹر کی دوری پر اسکی گاڑی ٹریفک جام میں پھنس گئی جسکی و جہ سے اُسے چار گھنٹوں تک ٹریفک جام میں رہنا پڑا ۔انہوں نے پولیس اور ٹریفک پولیس کی جانب سے شاہراہ کو ٹریفک جام سے صاف کرنے میں ناکام رہنے پر سوالیہ نشان لگایا ہے۔