بانہال// جمعہ کی صبح دس بجے سے اکھل بھارتیہ ودھیارتھی پریشد کے کارکنوں اور لیڈروں کی طرف سے جموں سرینگرقومی شاہراہ پر واقع قصبہ رام بن میں اپنے مطالبات کے حق میں سے شروع کیا گیاایک احتجاجی دھرنا جمعہ شام تک جاری تھا جس کی وجہ سے جموں سرینگر قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی دن بھر معطل رہی اور سینکڑوں کی تعداد میں مسافر اور مال گاڑیاں ناشری اور جواہر ٹنل کے آرپار اور شاہراہ کے دیگرمقامات پر درماندہ ہو کر رہ گئی ہیں جبکہ اطلاعات ہیں کہ کشمیر جانے والے ٹرکوں میں لدھی کئی بھیڑیں بھی گرمی کی شدت کی وجہ سے مر گئیں۔ جمعہ کے روز احتجاجی دھرنے کی حمایت میں رام بن میں بیشتر دکانیں اور کاروباری ادارے بھی بند رہے اور لوگوں کے علاوہ بار ایسوسی ایشن رام بن کے وکلاء احتجاجی مظاین کی حمایت میں کھڑے ہیں۔ جمعرات کی شام رام بن پولیس نے آکسیجن پلانٹ کے تنازعہ پر ہنگامہ آرائی کرنے کی پاداش میں چار گرفتاریاں عمل میں لائی تھیں اور لوگوں کو آکسیجن پلانٹ کے قیام پر پھیلائی جانے والی افواہوں سے خبردار رہنے کی اپیل کی تھی۔اے بی وی پی کے احتجاجی مظاہرین پچھلے کئی روز سے ضلع ہسپتال رام بن کے ساتھ ہائیر سیکنڈری سکول رام بن کی ملکیت والی زمین میں آکسیجن پلانٹ لگانے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ آکسیجن پلانٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے بعد جمعرات کو گرفتار کئے گئےABVP کے ضلع صدر رام بن ترن دیو سنگھ سمیت چار ساتھیوں کی رہائی عمل میں لائی جائے اور ایس ایچ او رام بن کی فوری معطلی کا حکم جاری کیا جائے۔ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کا کہنا ہے کہ جمعرات شام رامبن پولیس نے مبینہ طور پر ABVP کے کارکنوں کی شدید مارپیٹ کی اور ضلع صدر رامبن سمیت کئی خواتین ورکروں کو حراست میں لیا گیا یے ۔ پولیس کی اس مبینہ زیادتی کے خلاف اکھل بھارتی ودیارتھی پریشد کے کارکنان اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق ممبر اسمبلی رام بن نیلم کمار لنگے جمعرات آدھی رات تک پولیس سٹیشن رام بن کے گیٹ کے باہر مظاہرہ کرتے رہے اور پولیس انتظامیہ کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔ انتظامیہ کی طرف سے مطالبات نہ ماننے کے بعد انہوں نے جمعہ کی صبح سے ہی شاہراہ پر واقع قصبہ رام بن میں دھرنا دیکر گاڑیوں کی دوطرفہ نقل و حرکت کو روک دیا اور یہ سلسلہ جمعہ شام سات بجے تک جاری تھا۔حالات کی نزاکت دیکھتے ہوئے ڈی آئی جی ڈوڈہ کشتواڑ رام بن رینج ، ڈی سی رام بن مسرت الاسلام ، ایس ایس پی رام بن پی ڈی نتیا موقع پر موجود ہیں اور مظاہرین کو احتجاج ختم کرنے کیلئے انتظامیہ کی طرف سے کی جارہی مسلسل اپیلوں کا مظاہرین پر کوئی اثر نہیں ہورہا ہے اور مظاہرین اپنے مطالبات کو پورا کرنے تک احتجاجی دھرنے سے ہٹنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔پریشد کے مقامی کارکنان اور جموں سے پہنچے لیڈران صدر اے بی وی پی جموں یونیورسٹی انوپ سنگھ چپ اپنے گرفتار ساتھیوں کے کیس واپس لیکر ان کی فوری رہائی ، ایس ایچ او رام بن پردیپ شرما کی فوری معطلی اور آکسیجن پلانٹ کے کام کو بند کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ پولیس کاروائی اور انکے کارکنوں پر آدھ درجن دفعات کے تحت درج کئے گئے کیس بلاجواز ہیں اور پولیس کی زیادتی ہے۔ رام بن پولیس حکام نے جمعہ شام کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہوں نے کل ABVP کے چار کارکنوں کو گرفتار کیا ہے جن میں ترون دیو سنگھ ، پون راٹھور، آرین سنگھ اور روی راٹھور شامل ہیں اور اس سلسلے میں رام بن پولیس نے جمعرات کو ہی ایک کیس نمبر 132 زیر دفعہ 353،447 ، 147، 332،504 ، 506 انڈین پینل کوڈ درج کیا ہے۔جمعہ شام سات بجے اس خبر کے فائل کرنے تک ڈی آئی جی ، ضلعی اور پولیس انتظامیہ رام بن ، رام بن کے مقامی وکلا اور ABVP کے لیڈروں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری تھا جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی کسی بھی واقع سے نمٹنے کیلئے موقع پر تیار بہ تیار موجود ہے ۔جمعہ صبح سے ہی شاہراہ پر جاری دھرنے کی وجہ سے سینکڑوں کی تعداد میں مسافر اور مال گاڑیاں ادہمپور، ناشری ، چندرکوٹ ، رام بن اور فورلین ٹنل کے پار قاضی گنڈ میں روک کر رکھی گئی تھیں جس کی وجہ سے مسافروں اور ٹرک ڈرائیوروں کے علاؤہ بھیڑ بکریاں ، مرغ اور تازہ سبزیاں لیکر جانے والومے ٹرکوں کو نقصانات کا سامناہے۔