رافیل دستاویزات | مرکز کے اعتراضات سپریم کورٹ میں مسترد

نئی دہلی//سپریم کورٹ نے بدھ کو مرکزی حکومت کو زبردست جھٹکا دیتے ہوئے ‘خاص اور خفیہ’ دستاویزات پر مرکز کے استحقاق کے دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے دستاویزات عدالت میں درست ہیں۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس کے ایم جوزف کی بنچ نے مرکز کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی درخواستوں کی سماعت میرٹ کی بنیاد پر کی جائے گی اور اس کے لئے نئی تاریخ مقرر کی جائے گی۔جسٹس گوگوئی اور جسٹس جوزف نے الگ الگ، لیکن رضامندی کا فیصلہ سنایا. بنچ نے گزشتہ 14 مارچ کو مرکز کے ابتدائی اعتراضات پر فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ مرکزی حکومت کا ابتدائی اعتراض تھا کہ کیا عدالت نظرثانی درخواست دائر کرنے والوں کی جانب سے دستیاب کرائے گئے خصوصی اور خفیہ دستاویزات پر سماعت کر سکتی ہے ؟ سابق مرکزی وزرا- ارون شوری اور یشونت سنہا اور جانے مانے وکیل پرشانت بھوشن رافیل لڑاکا طیارے سودا معاملہ میں عدالت کے گزشتہ سال 14 دسمبر کو دیئے فیصلے کا جائزہ لینے کے لئے عرضیاں دائر کی تھیں، جن میں انہوں نے کئی ایسے دستاویزات لگائے تھے جو مرکزی حکومت کی نظر سے خاص قسم کے اور خفیہ ہیں۔مرکز کے سب سے بڑے لا افسر یعنی اٹارني جنرل کے کے وینو گوپال نے رافیل لڑاکا طیاروں سے متعلق دستاویزات پر استحقاق کا دعویٰ کرتے ہوئے دلیل دی تھی کہ ہندوستانی ثبوت ایکٹ کی دفعہ 123 کے تحت ان دستاویزات کو ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے دلیل دی تھی کہ یہ دستاویزات سرکاری رازداری قانون کے تحت محفوظ دستاویزات کے زمرے میں شامل ہیں اور متعلقہ محکمہ کی اجازت کے بغیر انہیں پیش نہیں کیا جا سکتا۔مسٹر وینو گوپال نے کہا تھا کہ کوئی بھی قومی سلامتی سے منسلک دستاویزات شائع نہیں کر سکتا، کیونکہ ملک کی سیکورٹی سب سے اوپر ہے ۔دوسری طرف وکیل پرشانت بھوشن نے دلیل دی کہ رافیل کے جن دستاویزات پر اٹارني جنرل استحقاق کا دعوی کر رہے ہیں، وہ شائع ہو چکے ہیں اور عوامی دائرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ حق اطلاعات قانون کے التزامات کہتے ہیں کہ عوامی مفادات عامہ دیگر چیزوں سے سب سے اوپر ہے اور خفیہ ایجنسیوں سے متعلق دستاویزات پر کسی قسم کے استحقاق کا دعوی نہیں کیا جا سکتا۔ بھوشن نے یہ بھی دلیل دی تھی کہ رافیل سودے میں دونوں حکومتوں کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے کیونکہ اس میں فرانس نے کوئی خود مختاری نہیں دی ہے ۔
 
 

عرضی گزار آدھی ادھوری تصویر پیش کررہے ہیں :وزارت دفاع

نئی دہلی//سپریم کورٹ کے ذریعہ رافیل جنگی طیارہ سودے سے متعلق ‘مخصوصی اور خفیہ’ دستاویزات کو سماعت کے لئے قابل قبول قرار دے ئے جانے کے بعد وزارت دفاع نے آج دہرایا کہ عرضی گزار ان کا استعمال قومی سلامتی اور دفاع سے وابستہ معاملہ میں داخلی اور خفیہ تبادلہ خیال کی آدھی ادھوری تصویر پیش کرنے کے لئے کررہے ہیں۔سپریم کورٹ نے رافیل جنگی طیارہ سودا معاملے میں بدھ کو ایک اہم فیصلے میں ‘مخصوص اور خفیہ’ دستاویزات پر مرکزی حکومت کے خصوصی اختیار کے کو خارج کردیا اور نظرثانی درخواستوں پر یہ دیکھتے ہوئے کتنی باجواز ہیں سماعت کرنے کا فیصلہ کیا۔عدالت کے فیصلے کے بعد وزارت دفاع نے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ عرضی گزار قومی سیکورٹی اور دفاع سے وابستہ معاملے میں داخلی اور خفیہ تبادلہ خیال کے بارے میں چنندہ اور آدھی ادھوری تصویر پیش کرنے کے ارادہ سے ان دستاویزات کا استعمال کررہے ہیں۔بیان میں کہا گیاعدالت میں عرضی گزاروں کے ذریعہ پیش دستاویزات سے اس بات کی صحیح معلومات نہیں ملتی کہ سودے سے وابستہ مختلف امور کو حل کیسے کیا گیا اور اہل افسر سے ضروری منظوری کس طرح لی گئی۔ یہ عرضی گزار وں کے ذریعہ چنندہ اور آدھے ادھورے حقائق پیش کرنے کی کوشش ہے ۔ حکومت کی اہم تشویش قومی سیکورٹی سے متعلق حساس اور خفیہ دستاویزات عوام کے سامنے لائے جانے کے متعلق ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ نظرثانی درخواستوں میں عرضی گزاروں نے ایسے دستاویز پیش کئے ہیں جن میں سے کچھ کو عوام کے سامنے نہیں لایا جاسکتا اس لئے مرکزی حکومت نے اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دستاویز خفیہ ہیں اور نظرثانی کی درخواستوں پر غور کرتے وقت ان کو نوٹس میں نہیں لانا چاہئے ۔ وزارت نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے عدالت کے حکم کے مطابق سپریم کورٹ اور عرضی گزاروں کو ضروری معلومات دستیاب کرائی تھیں۔ حکومت نے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کو بھی ضروری ریکارڈ اور فائلیں دی تھیں۔وزارت دفاع کے مطابق سپریم کورٹ نے بدھ کو فیصلے میں نظرثانی درخواستوں کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت ان دستاویزات پر غور کرنے کی بات کہی ہے ۔