راجوری //بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کے کیمپس میں بدھ کی شام سڑک پر جنگلی تیندوے کے دیکھے جانے کے بعد یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ ساتھ عملہ کے ارکان میں خوف و ہراس پھیل گیا۔یونیورسٹی کے حکام نے بتایا کہ اپنی گاڑی میں سفر کرنے والے عملے کے رکن نے تیندوے کو یونیورسٹی کی سڑک کے کنارے پر بیٹھے ہوئے دیکھ کر انتظامیہ کو اطلاع فراہم کی ۔انہوں نے بتایا کہ کیمپس میں جنگلی تیندوئے کی موجود گی کے بعد طلباء اور سٹاف ممبران میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ کیمپس کے اندر واقع ہاسٹلز میںسینکڑوں طلباء اور ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ کیڈر کے ارکان مقیم ہیں اور بہت سے عملے کے ارکان کے اہل خانہ بھی سرکاری رہائشی کوارٹرز میں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہر طرف خوف و ہراس ہے اور کوئی بھی اپنی رہائش سے باہر نہیں نکل رہا ہے جبکہ بیرونی علاقوں سے یونیورسٹی میں آنے والے طلباء بھی خوف و ہراس کی حالت میں ہیں ۔غور طلب ہے کہ یونیورسٹی کے بیشتر شعبہ جات ایک دوسرے سے فاصلے پر واقع ہیں اور ہر طرف گھنی جھاڑیاں اور درخت بھی موجود ہیں جبکہ ایسی صورتحال میں جنگلی جانوروں کے چھپنے کیلئے ماحول ساز گار بھی ہے ۔یونیورسٹی انتظامیہ کے ایک افسر نے بتایا کہ یونیورسٹی میں جانوروں کی موجودگی کے پیش نظر انتظامیہ کی جانب سے ایک ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کیمپس میں رہنے والے تمام طلباء اور عملے کے ارکان سے کہا گیا ہے کہ وہ شام کے اوقات میںباہر نہ گھومیں اور گھنے پودوں کے قریب بھی نہ جائیں۔محکمہ وائلڈ لائف کے ڈویژنل آفیسر نے بتایا کہ تیندوے کو اکثر یونیورسٹی کے قریبی جنگل میں دیکھا جاتا رہاہے لیکن کیمپس میں اس کی موجودگی کے بعد محکمہ نے نگرانی عمل تیز کر دیا ہے ۔