سمت بھارگو
راجوری//جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں پیر کی صبح ایک مسافر بس حادثے کا شکار ہو کر الٹ گئی جس کے نتیجے میں کم از کم 18 مسافر زخمی ہو گئے۔ یہ حادثہ راجوری قصبہ کے نزدیک ٹنڈوال علاقے میں اْس وقت پیش آیا جب بس راجوری سے منجاکوٹ کی جانب جا رہی تھی۔مسافر بس تیز رفتاری اور مبینہ لاپرواہ ڈرائیونگ کے باعث سڑک کنارے بے قابو ہو کر الٹ گئی۔ حادثے کے فوراً بعد مقامی لوگ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ مقامی آبادی نے زخمیوں کو بس سے باہر نکالنے میں اہم کردار ادا کیا اور بعد ازاں تمام زخمیوں کو علاج کے لیے گورنمنٹ میڈیکل کالج سے وابستہ ہسپتال راجوری منتقل کیا گیا۔حادثے میں زخمی ہونے والے مسافروں نے الزام عائد کیا کہ ڈرائیور انتہائی تیز رفتاری اور لاپرواہی سے گاڑی چلا رہا تھا جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ زخمی مسافروں نے بتایا کہ حادثے کے فوراً بعد مقامی لوگوں نے ان کی مدد کی اور ہسپتال پہنچایا جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم ان کا علاج کر رہی ہے۔جی ایم سی ایسوسی ایٹڈ ہسپتال راجوری کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جاوید اقبال نے بتایا کہ ہسپتال میں کل 18 زخمیوں کو داخل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض زخمیوں کو گہری چوٹیں آئی ہیں تاہم تمام مریض خطرے سے باہر ہیں اور علاج کا مثبت جواب دے رہے ہیں۔حادثے میں زخمی ہونے والوں کی شناخت عقیل الرحمان ولد عبدالرشید سکنہ کلالی منجاکوٹ، محمد ثاقب ولد شبیر احمد ساکن گھمبیرمغلاں، محمد صداقت ولد شکیل احمد سکنہ گھمبیر مغلاں، محمد رشید ولد محمد نصیر سکنہ دھیری ریلیوٹ ،محمد عقیز ولد محمد شکیل سکنہ لاہ تھنہ منڈی، محمد رزاق ولد محمد فضل سکنہ ککوڑا منجاکوٹ، عبدالرشید ولد عبدالحلیم سکنہ دھیری ریلیوٹ، سلطان اظہر ولد محمد رشید سکنہ گھمبیرمغلاں، گلفراز اختر زوجہ ظہیر احمد سکنہ پتراڑہ منجاکوٹ، افسانہ اختر دختر ظہیر احمد سکنہ پتراڑہ، اسما نثار دختر محمد نثار سکنہ دھیری ریلیوٹ منجاکوٹ، کفیل خان ولد گل خان سکنہ پتراڑہ منجاکوٹ، روبینہ کوثر زوجہ محمد شوکت سکنہ لاہ تھنہ منڈی، محمد رفیق ولد دوست محمد سکنہ سرولہ منجاکوٹ، محمد حسین ولد محمد شیر ساکن تھندا پانی، فوزیہ معروف دختر معروف احمد ساکن بیلہ راجوری، ثریا بیگم زوجہ جاوید اقبال ساکن منجاکوٹ اور زیشا دختر محمد شکیل ساکن بہروٹ کے طور پر ہوئی ہے۔حادثے کے بعد پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ مقامی لوگوں نے علاقے میں ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور لاپرواہ ڈرائیونگ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔