سمت بھارگو +رمیش کیسر
راجوری//ضلع راجوری کے نوشہرہ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب جھنگڑ کے فارورڈ علاقے میں فوج نے دراندازی کی ایک کوشش کو ناکام بناتے ہوئے ایک نامعلوم ملی ٹینٹ کو ہلاک کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق علاقے میں تاحال انسدادِ ملی ٹینسی کارروائی جاری ہے جبکہ فورسز کو ایک اورملی ٹینٹ کی موجودگی کا شبہ ہے جو ممکنہ طور پر زخمی حالت میں ہو سکتا ہے۔فوج کی جانب سے جاری ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کی قابلِ اعتماد اطلاعات کی بنیاد پر نوشہرہ سیکٹر کے جھنگڑ علاقے میں دو ملی ٹینٹوںکی مشکوک نقل و حرکت کا پتہ چلا۔
یہ سرگرمی منگل کی سہ پہر تقریباً تین بجے کے قریب فوج کی نگرانی میں آئی۔فوج کے مطابق جیسے ہی اس مشکوک نقل و حرکت کا سراغ ملا، علاقے میں تعینات فوجی دستوں نے فوری اور منظم کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو روکنے کے لیے مؤثر جنگی حکمت عملی اپنائی۔ فوج کے وائٹ نائٹ کور کے چوکنا دستوں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے دراندازی کی کوشش کو کامیابی کے ساتھ ناکام بنا دیا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس دوران ہونے والی جھڑپ میں پاکستان کی سرپرستی میں سرگرم ایک دہشت گرد کو ہلاک کر دیا گیا جس کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔فوج نے مزید بتایا کہ اپنے دستوں کو علاقے میں دوبارہ منظم کر دیا گیا ہے تاکہ دوسرے ملی ٹینٹ کی تلاش کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لئے زمینی دستوں کے ساتھ ساتھ فضائی نگرانی کے جدید ذرائع بھی استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ پورے علاقے پر سخت نظر رکھی جا سکے۔ادھر سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملی ٹینٹوں کا ایک گروپ، جس میں دو سے چار افراد شامل ہو سکتے ہیں، لائن آف کنٹرول کے سامنے فارورڈ مقام پر موجود تھا اور اسی گروپ نے دراندازی کی کوشش کی تھی تاہم فوجی جوانوں کی بروقت کارروائی کے باعث اس کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ جھنگڑ بٹالین کے جوانوں نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کارروائی کرتے ہوئے اس دراندازی کو روکا۔ واقعہ کے بعد پورے علاقے کو محاصرے میں لے لیا گیا ہے اور وسیع پیمانے پر تلاشی کارروائی جاری ہے۔ سیکورٹی فورسز کو شبہ ہے کہ دوسرا ملی ٹینٹ زخمی حالت میں قریبی علاقے میں چھپا ہوا ہو سکتا ہے۔فوج کے مطابق نوشہرہ سیکٹر سمیت پورے علاقے میں سیکورٹی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور تمام دستوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی دراندازی کی کوشش کو فوری طور پر ناکام بنایا جا سکے۔